غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں سرکای اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب اسرائیل کی مسلسل جاری جارحیت اور مسلط کردہ بحری حصار کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں ماہی گیری کا شعبہ سو فیصد تک مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ایک ایسا وقت جب سمندر ہزاروں خاندانوں کے لیے رزق کا ذریعہ تھا اب وہ شکاریوں کے لیے صیہونی دشمن کی طرف سے ایک کھلا مقتل بن چکا ہے۔
حکومتی میڈیا آفس کے مطابق سنہ 2023ء کی جنگ سے قبل تقریباً 4 ہزار ماہی گیر قریبا 50 ہزار افراد کی کفالت کر رہے تھے تاہم اب یہ پیشہ ایک روزانہ کے خطرے میں بدل چکا ہے۔ غاصب اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں اب تک 238 ماہی گیر جام شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ 450 کے قریب زخمی یا حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کشتیوں اور ماہی گیری کی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
الجزیرہ کی جانب سے نشر کردہ مناظر کشتیوں، ماہی گیری کی سہولیات اور مچھلیوں کے فارموں کو پہنچنے والی تباہی کی حد کو ظاہر کرتے ہیں۔ غاصب اسرائیل کی افواج ساحل سے محض ایک میل کی مسافت پر آنے والے ماہی گیروں پر مسلسل فائرنگ کرتی ہیں جبکہ ان کی کشتیاں قبضے میں لے کر جال اور دیگر سامان کو تلف کر دیا جاتا ہے۔
موجودہ تباہی صرف حالیہ جنگ تک محدود نہیں ہے کیونکہ غزہ پر مسلط بحری حصار گذشتہ 18 سال سے زائد عرصے سے جاری ہے تاہم جنگ کے ان دو برسوں میں مچھلیوں کی پیداوار میں تقریباً مکمل تعطل دیکھا گیا ہے۔ زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں میں ہونے والے براہ راست نقصانات کا تخمینہ تقریباً 2.8 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔
وسطی غزہ کے شہر دیر البلح کی منڈیوں میں اس گراوٹ کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں جہاں غزہ کے سمندر کی تازہ مچھلیوں کے متبادل کے طور پر منجمد مچھلیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کو خاص کوآرڈینیشن اور اضافی اخراجات کے بعد داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے اور وہ بھی مخصوص اقسام تک محدود ہیں۔
لاکھوں فلسطینیوں کی قوت خرید میں شدید کمی ان کے لیے مچھلی خریدنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے چاہے وہ کسی وقت محدود مقدار میں دستیاب ہی کیوں نہ ہو۔
اسی تناظر میں صحافی سلام خضر کی جانب سے پیش کردہ ایک انٹرایکٹو نقشے میں ماہی گیری کے لیے دستیاب بحری رقبے میں شدید کمی کو دکھایا گیا ہے۔ اوسلو معاہدے کے تحت غزہ کی بحری حدود 20 بحری میل تک پھیلی ہوئی تھیں مگر سنہ 2006ء سے یہ فاصلہ کم ہو کر 6 میل رہ گیا اور سنہ 2023ء کے اکتوبر کے بعد یہ مزید کم ہو کر بعض اوقات صرف 3 کلومیٹر تک رہ گیا تھا۔ اب حال ہی میں ماہی گیری کے لیے مقررہ فاصلہ ساحل سے صرف 800 میٹر تک محدود کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اتنے تنگ رقبے میں مچھلیاں پکڑنے سے ان کی دستیابی اور سائز پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے جبکہ غزہ کی بندرگاہ پر بار بار ہونے والے حملوں نے اسے تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ماہی گیروں کی کمیٹیوں کے سربراہ زکریا بکر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ماہی گیری کا رقبہ اب عملی طور پر زیرو میل ہو چکا ہے اور سمندر مکمل بند ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کچھ ماہی گیر ساحل سے محض 800 میٹر کے فاصلے پر چھوٹی کشتیوں کا استعمال کر کے اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں جہاں صرف اسی علاقے میں 67 سے زائد ماہی گیر شہید کیے جا چکے ہیں۔
زکریا بکر نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ماہی گیروں کا معاملہ کسی بھی معاہدے یا سرکاری کمیٹی سے غائب ہے اور اس شعبے کو بچانے کے لیے کسی سنجیدہ اقدام کا فقدان ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشتیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا اور امداد نہ ملی تو غزہ سے ماہی گیری کا پیشہ مکمل طور پر مٹ جائے گا۔
یہ تمام تر سنگین حالات سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پر جاری غاصب اسرائیل کی جنگ کے سائے میں پیش آ رہے ہیں جس میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ شہری انفراسٹرکچر کا 90 فیصد حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔