(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں ایک ماہر ماحولیات نے قابض اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے سنگین اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے کے ڈھیر، کوڑا کرکٹ اور گندے پانی کی بھرمار نے ایک شدید صحت کے بحران کو جنم دے دیا ہے جو لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی زندگیوں کے لیے براہ راست خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زندگی کی بنیادی سہولیات کے مکمل فقدان کے ماحول میں جنگ کا خاتمہ ہی ماحولیاتی اور صحت کے تباہ کن انہدام کو روکنے کی بنیادی شرط ہے۔
اسلامی یونیورسٹی میں ماحولیاتی علوم کے پروفیسر عبد الفتاح عبد ربه نے کہا کہ وسیع پیمانے پر تباہی سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے اور کیڑوں، مچھروں اور چوہوں کی افزائش میں اضافہ کرتی ہے جس سے گنجان علاقوں میں مقیم بے گھر افراد کو لاحق صحت کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
اخبار فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے عبد ربه نے وضاحت کی کہ ٹھوس کچرے اور گندے پانی سے اٹھنے والی بدبو بے گھر افراد کی روزمرہ زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مچھر جلدی امراض کا باعث بنتے ہیں جب کہ مکھیاں متعدد بیماریوں کی منتقلی کا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے کے ڈھیروں سے بچھو اور سانپ نکل آنے کا بھی شدید خدشہ ہے جسے انہوں نے وسیع پیمانے پر ملبہ گرنے سے پیدا ہونے والے مسام دار ماحول کا نتیجہ قرار دیا۔
وزارت صحت کی جانب سے بعض مشتبہ کیسز میں لیپٹوسپیروسیس بیماری کے خدشے کے حوالے سے عبد ربه نے وضاحت کی کہ یہ ایک بیکٹیریا سے پھیلنے والی متعدی بیماری ہے جو لیپٹوسپیرا نامی لولبی بیکٹیریا کے باعث ہوتی ہے اور انسان اور جانور دونوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری عموماً ایسے پانی یا مٹی کے ساتھ رابطے سے پھیلتی ہے جو متاثرہ جانوروں کے پیشاب سے آلودہ ہو خاص طور پر چوہوں اور چھیچڑوں جیسے قوارض کے ذریعے۔ آوارہ کتے بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں اور یہ تمام عوامل غزہ میں بے دخلی کے علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انفیکشن عموماً جلد پر موجود معمولی زخموں یا آنکھ، ناک اور منہ کی جھلیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ مقامی سطح پر ممکنہ احتیاطی تدابیر میں آلودہ ٹھہرے ہوئے پانی سے بچاؤ اور نقصان دہ جانوروں اور قوارض کا خاتمہ شامل ہے تاہم آبادی کے پاس دستیاب اختیارات انتہائی محدود ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ تاحال غزہ میں لیپٹوسپیروسیس کا کوئی مصدقہ کیس سامنے نہیں آیا۔
اسی تناظر میں عبد ربه نے چوہوں کے پھیلاؤ کے خطرات پر بھی توجہ دلائی جنہیں مقامی طور پر العرسہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے گھر افراد خصوصاً مریضوں کی زندگی کے لیے شدید خطرہ ہیں کیونکہ ان کے کاٹنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں گینگرین جیسی خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک کی قلت اور بنیادی خدمات کی عدم موجودگی میں بے گھر افراد ان خطرات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔
ماہر ماحولیات نے اس بات پر زور دیا کہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حقیقی اقدامات جنگ کے مکمل خاتمے سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو کھول کر ملبہ ہٹانا، پانی اور نکاسی آب کے نظام کی مرمت، ٹھوس کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا اور صحت کے شعبے کی بحالی ناگزیر ہے تاکہ متاثرہ افراد کا علاج ممکن ہو سکے۔
سرکاری میڈیا دفتر کے گذشتہ ماہ کے بیان کے مطابق تقریباً پندرہ لاکھ بے گھر افراد خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو انہیں کسی بھی قسم کا بنیادی تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔
بین الاقوامی اداروں نے دسمبر/کانون الاول سنہ 2025ء کے دوران خبردار کیا تھا کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی غزہ میں بے گھر افراد کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے کیونکہ پانی اور نکاسی آب کے نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی کہ پانی کے ذرائع کی آلودگی کے باعث پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے خاص طور پر بچوں اور خواتین میں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے آلودہ ملبے اور کچرے کے طویل المدتی اثرات سے صحت عامہ اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو لاحق خطرات پر خبردار کیا۔ انروا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی بحران غزہ میں انسانی المیے کو مزید گہرا کر رہا ہے۔