• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 20 مارچ 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

غزہ کے ملبے اور خیموں میں عید کی تکبیرات کی صدائیں

غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں اور عارضی خیموں کے درمیان فلسطینیوں نے عید الفطر کی تکبیرات بلند کیں۔

جمعہ 20-03-2026
in خاص خبریں, غزہ
0
غزہ کے ملبے اور خیموں میں عید کی تکبیرات کی صدائیں
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی صبح دسیوں ہزار فلسطینیوں نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔ یہ روح پرور مناظر تباہ شدہ مساجد کے ملبے اور بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کے خیموں کے قریب کھلے میدانوں میں دیکھے گئے جہاں عید کی تکبیرات کی گونج میں ایمانی جذبہ اور قابض دشمن کی سفاکیت کے نشانات ایک ساتھ نمایاں تھے۔

نمازیوں کے بڑے اجتماعات ان عارضی مصلیٰ جات میں ہوئے جو ان مساجد کے ڈھیر پر یا ان کے پہلو میں بنائے گئے تھے جنہیں قابض اسرائیل نے اپنی جارحیت کے دوران مکمل طور پر شہید کر دیا تھا۔ انتہائی کٹھن حالات کے باوجود بلند آواز میں تکبیرات پڑھتے ہوئے فلسطینیوں نے شعائرِ عید کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن کے چہروں پر اپنے پیاروں کی جدائی اور گھروں کی تباہی کا غم صاف جھلک رہا تھا۔

رواں برس عید الفطر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب انسانی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے، محاصرہ برقرار ہے اور ہجرت و بے گھری کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ لاکھوں فلسطینی اب بھی پناہ گاہوں اور عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں خوراک، پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔

ان تمام تر سختیوں کے باوجود گذشتہ سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کی عیدوں کے مقابلے میں اس بار عید کے چند گھنٹوں کے دوران نسبتاً امن کی فضا رہی، کیونکہ گذشتہ برسوں میں عید کے ایام شدید فوجی حملوں اور بمباری کی زد میں رہے تھے جس کے باعث بہت سے علاقوں میں نمازِ عید کی ادائیگی ممکن نہیں رہی تھی۔

اس پروقار موقع پر فلسطینیوں نے اپنے ان 72 ہزار سے زائد شہداء کو یاد کیا جو آزادی کی راہ میں نثار ہو گئے، جبکہ 8 ہزار سے زائد لاپتہ افراد کی یاد بھی دلوں میں تازہ رہی جن کی تلاش اب بھی ملبے تلے جاری ہے۔ اس صورتحال نے عید کے اجتماع کو ایک غمگین رنگ دے دیا جہاں اپنوں کو کھونے کا دکھ اور زندگی کی رمق باقی رکھنے کی جدوجہد ایک دوسرے میں پیوست نظر آئی۔

نمازِ عید کے خطباء نے باہمی یکجہتی، صلہ رحمی، اتحاد اور قابض دشمن کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔

منظر نامے کا ایک متاثر کن پہلو یہ تھا کہ خاندان اپنے بچوں کو بھی جائے نماز تک لے کر آئے تھے جہاں نمازیوں نے مختصر مگر پرجوش انداز میں ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ زخموں کے باوجود عید کی خوشیاں منائیں گے، جبکہ اسی دوران مقامی اور عالمی سطح پر غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور انسانی صورتحال بہتر بنانے کے مطالبات بھی شدت سے جاری رہے۔

Tags: Eid al FitrgazaGaza lifeHumanitarian CrisisIslamic festivalMiddle East ConflictpalestineRefugeestentswar destruction
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.