غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) ایک ایسے وقت میں جب غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی دشمن کی جارحیت اور فوجی حملوں میں مزید شدت اور انسانی بنیادوں پر دباؤ بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، وہیں دوسری جانب ایک سیاسی اور سکیورٹی منصوبے کے خدوخال بھی خاموشی سے سامنے آ رہے ہیں جسے پسِ پردہ مکارانہ انداز میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس گھناؤنے منصوبے کا مقصد سیز فائر یا جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے مظلوم غزہ کو جغرافیائی اور انتظامی طور پر ایک نیا رنگ دینے کی سازش رچائی جا رہی ہے۔ اس کے تحت ایک نیا انتظامی اور سکیورٹی نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کا آغاز غزہ کی پٹی کے مشرقی حصے سے ہوگا اور اسے بتدریج وسعت دے کر پوری غزہ کی پٹی کو قابض اسرائیل کے تسلط کے نیچے لایا جائے گا۔
فلسطینی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بھیانک منصوبے کا مقصد غزہ کی کوئی باقاعدہ یا سرکاری تقسیم کا اعلان کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ہی غزہ کے اندر دو الگ الگ "غزہ” بنانا ہے۔ مشرقی حصہ ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کے سپرد ہوگا جو سخت سکیورٹی اور سیاسی شرائط کا پابند ہوگا، جہاں برائے نام بحالی اور خدمات فراہم کی جائیں گی۔ دوسری طرف مغربی حصے کو دانستہ طور پر بدترین بھوک، شدید بمباری اور انسانی المیے کے جہنم میں جھونک دیا جائے گا تاکہ وہاں کے پامال اور ستم رسیدہ باشندے مجبور ہو کر غاصب دشمن کے تیار کردہ اس نئے متبادل ماڈل کی طرف ہجرت کر جائیں۔
ایک ایسے وقت میں جب سیز فائر (جنگ بندی) کے مذاکرات قابض اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں اور غزہ کی پٹی میں انسانی زندگی کے مکمل خاتمے کے ہولناک آثار گہرے ہو رہے ہیں، مبصرین کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی عارضی انتظامات نہیں ہیں۔ بلکہ یہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے غزہ پر ایک ایسے عبوری حکومتی ڈھانچے کو مسلط کرنے کی کوشش ہے جو بین الاقوامی نگرانی میں کام کرے گا مگر اس کی سکیورٹی کی باگ ڈور براہِ راست غاصب دشمن کے ہاتھ میں ہوگی۔
سفاکانہ جنگ کے ملبے پر "ٹیکنوکریٹس کمیٹی” کا قیام
نامور مصنف اور سیاسی تجزیہ کار وسام عفيفہ کا ماننا ہے کہ اس وقت جو منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں وہ محض عارضی سول انتظامیہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ غزہ کی پٹی کے مخصوص علاقوں میں ایک متبادل کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی خطرناک سازش ہے۔
انہوں نے ایک صحافتی بیان میں انکشاف کیا کہ غزہ میں نام نہاد "کونسل برائے امن” کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکولے ملادی نوف ایک ایسی ٹیکنوکریٹ انتظامی کمیٹی کی تشکیل کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں جو غزہ کی پٹی کے معاملات سنبھالے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کی بحالی، قابض اسرائیل کی فوج کے پیچھے ہٹنے یا اقتدار کی منتقلی کے تمام معاملات کو مزاحمت کاروں کے ہتھیاروں کے ساتھ مشروط کیا جائے گا۔
وسام عفيفہ کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد ایک ظالمانہ شرط پر رکھی گئی ہے کہ کسی بھی سیاسی یا انسانی ہمدردی کے عمل کو شروع کرنے سے پہلے مزاحمت کے ہتھیاروں کا خاتمہ لازمی ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کو فلسطینیوں پر سیاسی اور سکیورٹی دباؤ بڑھانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیرِ گردش تجاویز کے مطابق یہ کٹھ پتلی انتظامی کمیٹی مشرقی غزہ کے ان علاقوں میں داخل ہوگی جہاں سے قابض اسرائیل کی فوج ممکنہ طور پر پیچھے ہٹے گی تاکہ وہاں کے سویلین معاملات سنبھالے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی عرب ممالک کی معاونت سے ایک نئی پولیس فورس بھی تعینات کی جائے گی تاکہ بدحال شہریوں کو ان علاقوں میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔
مشرقی غزہ.. کٹھ پتلی انتظامیہ کا مرکز
وسام عفيفةہاس منصوبے کو محض دفتری یا انتظامی ردوبدل نہیں سمجھتے، بلکہ وہ اسے ایک ایسے "عبوری حکومتی ماڈل” کی تخلیق کی کوشش قرار دیتے ہیں جس کا آغاز نام نہاد "یلو لائن” (زرد لکیر) کے قریب واقع مشرقی علاقوں سے ہوگا اور پھر اسے رفتہ رفتہ پورے غزہ میں رائج نظام کے متبادل کے طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے غاصب صہیونی دشمن وہ اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ اپنی تمام تر عسکری طاقت اور سفاکیت کے باوجود براہِ راست جنگ سے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، یعنی بغیر کسی باقاعدہ سیاسی اعلان کے غزہ کو عملی طور پر تقسیم کر دینا۔
اس بدنیتی پر مبنی تصور کے تحت مشرقی علاقے سکیورٹی کے سخت پہرے میں ہوں گے جہاں مشروط اور محدود پیمانے پر تعمیرِ نو کی اجازت ہوگی، جبکہ مغربی علاقے بدستور ظالمانہ محاصرے، انسانی تباہی اور غاصب دشمن کی وحشیانہ بمباری کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
اس کے باوجود وسام عفيفہ نے یقین ظاہر کیا کہ اس مذموم منصوبے کو ابھی بھی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ فلسطینیوں میں اس پر کسی اتفاقِ رائے کا نہ ہونا، غیور فلسطینی مزاحمت کی طرف سے ان شرائط کو یکسر مسترد کیا جانا اور اس منصوبے میں قابض اسرائیل کے مکمل اصرار کے باوجود غزہ سے مکمل انخلا اور کسی بھی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تقاضوں کو نظرانداز کیا جانا ہے۔
"داخلی ہجرت”.. طاقت کے بل بوتے پر آبادی کی جبری منتقلی
دوسری جانب نامور کاتب اور سیاسی تجزیہ کار فایز ابو شمالہ نے سخت لفظوں میں متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مشرقی حصے میں جو کچھ کھچڑی پکائی جا رہی ہے وہ محض ایک نیا انتظامی علاقہ نہیں ہے بلکہ یہ غزہ کے اندر فلسطینی آبادی کے تناسب کو طاقت کے زور پر تبدیل کرنے کی ایک بڑی ڈیموگرافک انجینئرنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ اس منصوبے کا اصل مقصد یہ ہے کہ علی شعث کی سربراہی میں قائم غزہ کی انتظامی کمیٹی کو ان مشرقی علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دی جائے جو قابض اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں اور جنہیں "یلو زون” کا نام دیا گیا ہے۔
فایز ابو شمالہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عملی طور پر مغربی غزہ کے مظلوم باشندوں کو، جہاں غاصب دشمن نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا کر زندگی کے تمام وسائل ختم کر دیے ہیں، مشرقی علاقوں کی طرف دھکیلنے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہاں ایک نیا آبادیاتی متبادل پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جبری ہجرت فلسطینیوں کو ان کی زمینوں کی ملکیت سے محروم کرنے، پناہ گزین کیمپوں کی تاریخی اور سیاسی حیثیت کو مٹانے اور غزہ کی سویلین زندگی کو غاصب صہیونی ریاست کے طویل مدتی مکارانہ عزائم کے سانچے میں ڈھالنے کے وسیع تر مقاصد کا حصہ ہے۔
"کونسل برائے امن”.. جدید ہتھکنڈوں کے ذریعے تسلط قائم رکھنے کی کوشش
اسی تناظر میں سیاسی تجزیہ کار اور کاتب محمد شاہین کا کہنا ہے کہ "کونسل برائے امن” اور جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، اسے محض عام انتظامی امور یا تعمیرِ نو کے تکنیکی منصوبوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دراصل ایک مکمل سیاسی اور سکیورٹی ایجنڈا ہے جس کا ہدف فلسطینی قومی شعور کو مسخ کرنا اور ایک ایسی کٹھ پتلی انتظامیہ کھڑی کرنا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر غزہ کے حوالے سے قابض اسرائیل کے سفاکانہ عزائم کی چاکری کر سکے۔
محمد شاہین نے ہمارے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد پرانے استعماری تسلط کو نئے اور جدید ناموں کے ساتھ دوبارہ نافذ کرنا ہے۔ اس سازش کے تحت "اچھی حکمرانی” اور "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انتظام” جیسے پرفریب نعروں کی آڑ میں غزہ کو الگ الگ انتظامی زون اور الگ تھلگ حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ فلسطینی عوام کے قومی و تاریخی اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا سکے اور فلسطینی معاشرے کو ایک ایسی کٹھ پتلی میں بدل دیا جائے جس کی آبادی اور سکیورٹی کی باگ ڈور دشمن کے ہاتھ میں ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیور اور صابر غزہ جس نے اس وحشیانہ جنگ کے دوران نسل کشی اور بدترین تباہی کے سامنے تاریخِ انسانی کی عظیم ترین استقامت کی داستانیں رقم کی ہیں، اسے کسی مکارانہ "اقتصادی امن” کے ماڈل کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا، اور نہ ہی امداد اور تعمیرِ نو کا لالچ دے کر اس کی قومی خودمختاری پر کوئی سودے بازی قبول کی جا سکتی ہے۔
محمد شاہین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نام نہاد "کونسل برائے امن” قانونی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام کی نمائندگی کا کوئی حق یا جواز نہیں رکھتی۔ یہ ایک ایسا غاصبانہ ادارہ ہے جو فلسطینیوں کے قومی مراجع کو نظرانداز کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے فلسطینی عوام کے مسلمہ حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
شاہین کے مطابق مشرقی غزہ کے علاقوں کو قابض دشمن کی مرضی اور شرائط کے تابع کرنے کی کوئی بھی کوشش فلسطینی سرزمین کی وحدت پر براہِ راست حملہ اور اس کی علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور یہ انسانی ہمدردی اور ترقی کے پردے میں ایک بھیانک سیاسی اور سکیورٹی تسلط قائم کرنے کی سازش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ رویے غزہ کی پٹی کے اندر نئے سیاسی حقائق مسلط کرنے کے اس وسیع تر سلسلے کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینی عوام سے کٹی ہوئی ایک ایسی انتظامی کلاس پیدا کرنا ہے جو قابض اسرائیل کی سکیورٹی شرائط کے تحت سویلین معاملات چلائے، جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ فلسطینی سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔
شاہین نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ان تمام استعماری اور صیہونی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک سچے، مضبوط اور متحدہ فلسطینی قومی محاذ کی ازسرنو تشکیل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو فلسطینی اصولوں پر کاربند ہو اور کسی بھی ایسے انتظام کو یکسر مسترد کر دے جو فلسطینی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہو یا غزہ کے اندر جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہو۔