غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ فلسطینی شہداء کی میتیں غزہ کے ہسپتالوں تک پہنچائی گئیں، جن میں دو شہداء وہ ہیں جن کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں، جبکہ اسی عرصے میں چار زخمی بھی ہسپتال لائے گئے۔
وزارت صحت نے بتایا کہ سات اکتوبر 2023ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی نسل کش جنگ کے آغاز سے اب تک شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 71 ہزار 800 شہداء اور ایک لاکھ 71 ہزار 555 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے۔
وزارت صحت نے واضح کیا کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہیں، تاہم ایمبولینس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں شدید تباہی اور مسلسل خطرات کے باعث تاحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق 11 اکتوبر 2023ء کو سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے قابض اسرائیل کی جانب سے کی گئی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 526 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 1 ہزار 447 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسی دوران لاپتا افراد میں سے 717 لاشیں ملبے کے نیچے سے نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر 2023ء سے قابض اسرائیل امریکہ اور یورپی حمایت کے سائے میں غزہ پٹی میں منظم نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے، جس میں قتل عام، بھوک کو ہتھیار بنانا، وسیع پیمانے پر تباہی، جبری بے دخلی اور گرفتاریاں شامل ہیں۔ یہ سب کچھ عالمی برادری کی اپیلوں اور عالمی عدالت انصاف کے احکامات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے جاری ہے۔
اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ 43 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن کی اکثریت بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زیادہ افراد لاپتا ہیں، لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، قحط نے متعدد جانیں لے لی ہیں، جبکہ غزہ پٹی کے بیشتر شہر اور علاقے مکمل تباہی کے بعد نقشے سے مٹتے جا رہے ہیں۔