غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے معصوم بچے سمندر کی لہروں کا رخ کر رہے ہیں تاکہ موسم کی تمازت سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تلاش کر سکیں، جو ان شکستہ خیموں میں گزارے جانے والے کٹھن لمحات میں کچھ سکون کا باعث بن سکے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی زندگی کے شب و روز اور ہر لمحہ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی حالات کے سائے میں گزر رہے ہیں۔
فلسطینیوں کی معیشت اور صحت کی صورتحال بدستور ابتری کا شکار ہے، جبکہ قابض اسرائیلی حکام معاہدے کے تحت اپنی طے شدہ ذمہ داریوں سے انحراف کر رہے ہیں اور مسلسل بمباری اور جارحیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگرچہ نسل کشی کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، مگر اس کے تباہ کن اثرات بچوں کی زندگی کے ہر پہلو پر ابھی تک بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ اب بھی باقاعدہ تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔ ان کی تعلیمی کمی کو جزوی طور پر پورا کرنے کے لیے ان محدود تعلیمی خیموں کا سہارا لیا جا رہا ہے جو ان سکولوں کے عارضی متبادل کے طور پر بنائے گئے ہیں جو تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔
اسی طرح اس نسل کشی نے بچوں کو ان کے دیگر حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے، جن میں محفوظ زندگی، چھت، صحت، صاف ستھرا ماحول اور کھیل کود سمیت فارغ اوقات کی سرگرمیوں کا حق شامل ہے۔
شہرِ غزہ کے ساحل پر سمندر کے سامنے درجنوں بچے جمع ہیں اور لہروں کے سکون سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جہاں اب یہ ساحل شدید گرمی اور پناہ گزینی کے مقامات کی تنگی سے فرار کے لیے واحد پناہ گاہ بن چکا ہے۔
ساحل پر بکھری چٹانوں کے درمیان بچے تیراکی اور کھیل کود میں مصروف ہیں، جہاں وہ گھریلو فرنیچر کے بچے کھچے ٹکڑوں سے بنائی گئی ابتدائی نوعیت کی ٹیوبیں استعمال کر رہے ہیں۔ اس دوران غزہ اور سمندر کے گیتوں اور نعروں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جو جنگ کے ان سنگین حالات میں خوشی کے چند لمحات چھین لینے کی ایک معصومانہ کوشش ہے۔
غزہ کی پٹی میں فلسطینی قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ اور تل ابیب کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد، بنیادی اشیاء اور تعمیرِ نو کے سامان کی آمد پر عائد سخت پابندیوں کے نتیجے میں غیر انسانی معاشی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پندرہ سالہ نوجوان محمد جودہ نے اناطولو نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے بچنے اور جنگ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے سمندر کی طرف آیا ہے۔
اس نے مزید کہا کہ ہم یہاں سمندر میں نہانے اور جنگ کی اداس فضا کو بدلنے کے لیے آئے ہیں، اس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اب ساحل ہی وہ واحد جگہ رہ گئی ہے جو انہیں کچھ نفسیاتی راحت فراہم کرتی ہے۔
اپنے دوستوں کے درمیان کھڑے ہو کر سمندر کی طرف ہاتھ لہراتے ہوئے جودہ نے کہا کہ سمندر کی ہوا خوشگوار ہے، ہماری تمنا ہے کہ یہ جنگ ختم ہو جائے اور ہم اپنی گذشتہ زندگی کی طرف لوٹ جائیں۔
دس سالہ بچی علا مقداد نے ساحل پر اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر گیت گاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس سمندر کے سوا کھیلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، ہم صرف امن کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔
نسل کشی کے ان دو سالوں کے دوران اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق بچوں نے قابض اسرائیل کی جنگ کی سب سے بھاری قیمت چکائی ہے، کیونکہ تل ابیب نے 20 ہزار سے زائد بچوں کو شہید کیا اور 56 ہزار 348 سے زائد بچوں کو یتیم کر دیا ہے۔
فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے گذشتہ اپریل کے بیان کے مطابق غزہ کی پٹی کی 24 لاکھ کی کل آبادی میں بچوں کا تناسب 47 فیصد ہے، جن کی تعداد تقریبا 9 لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔