(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) انتہائی نگہداشت کے بستر اور بے گھر خاندانوں کے خیمے کے درمیان دو ننھی جانوں عمر ابو یوسف اور میس معمر کی کہانیاں ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔ یہ کہانیاں غزہ پٹی کے ان ہزاروں معصوم بچوں کی تصویر بن جاتی ہیں جن کے ناتواں جسم بیماریوں کے محاصرے میں ہیں اور جن کی سانسوں پر قابض اسرائیل کی جانب سے بند کی گئی کراسنگ کا پہرا ہے۔ یہاں دکھ ہر امید سے آگے نکل چکا ہے اور علاج یا نجات محض ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔
غزہ کے ایک ہسپتال میں نو ماہ کا شیر خوار عمر ابو یوسف زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے۔ وہ اپنے خاندان کا واحد سہارا ہے مگر پیدائش کے پہلے لمحے سے ہی تکلیف اس کے نصیب میں لکھ دی گئی۔ عمر نے کبھی محفوظ اور پرسکون بچپن کا ذائقہ نہیں چکھا۔ اس کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں ہی پیدائشی آنتوں کی بندش نے اس کے جسم کو قید کر لیا۔ فضلہ قدرتی طور پر خارج نہ ہو سکا تو ڈاکٹروں کو اس کی جان بچانے کے لیے اس کے ننھے پیٹ میں مفاغرہ بنانا پڑا۔
بعد کے طبی معائنے نے دکھوں کی ایک اور پرت کھول دی۔ مقعد کے مقام پر اعصابی خلیات کا فقدان تھا جبکہ مفاغرہ کی جگہ پر یہ خلیات موجود تھے۔ یوں عمر کی حالت ایک عام بیماری نہیں رہی بلکہ ایک پیچیدہ اور خطرناک امتحان بن گئی۔
نایاب اور دل دہلا دینے والی طبی کیفیت
مفاغرہ ایک جراحی سوراخ ہوتا ہے جو پیٹ کی دیوار میں بنایا جاتا ہے تاکہ آنت کے کسی حصے کے ذریعے فضلہ یا گیس خارج کی جا سکے، جب قدرتی راستہ پیدائشی یا خرابی کے باعث بند ہو جائے۔
صحافی عمرو طبش کی پیش کردہ تصویری رپورٹ میں عمر کی ماں آنسو ضبط کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ان کے بیٹے کی اذیت یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ آنتوں کی بندش کے باعث اس کا کمزور جسم ناک کے ذریعے فضلات خارج کرنے لگا۔ یہ ایک نہایت نایاب اور جان لیوا حالت تھی جس نے لمحوں میں اس کے جسم سے قیمتی رطوبت چھین لی اور اس کے گردوں کے افعال کو خطرے میں ڈال دیا۔
غزہ کے ہسپتالوں میں طبی آلات اور تشخیصی سہولتوں کی شدید قلت کے باعث ڈاکٹر اس کی مکمل جانچ یا خصوصی جراحی مداخلت سے عاجز رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مزید تاخیر ہوئی تو عمر گردوں کی ناکامی یا مہلک پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق عمر کی زندگی بچانے کا واحد راستہ اسے فوری طور پر غزہ سے باہر منتقل کرنا ہے جہاں جدید سہولتیں موجود ہیں۔ مگر قابض اسرائیل کی جانب سے کراسنگ کی بندش نے اس فوری اور زندگی بخش ضرورت کو ایک ایسے بے رحم انتظار میں بدل دیا ہے جس کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔
میس بھوک اور بیماری کے درمیان قید ایک ننھی جان
خان یونس میں ناصر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں چھ ماہ کی میس معمر خاموشی سے زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس کی پیدائش صرف 1.4 کلوگرام وزن کے ساتھ ہوئی۔ یہ کمزور آغاز اس غذائی قلت کا نتیجہ تھا جس نے حمل کے دوران اس کی ماں کے جسم کو نڈھال کر دیا۔ یہ غذائی قلت قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ کے ساتھ نافذ کی گئی بھوک کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔
میس دنیا میں آئی تو اس کے ننھے وجود پر بیماریوں کا بوجھ پہلے ہی لدا ہوا تھا۔ اسے ڈاؤن سنڈروم لاحق تھا، شدید غذائی قلت نے اس کے جسم کو توڑ دیا تھا، دل میں سوراخ تھا اور ایک ہی گردہ موجود تھا جو پتھری کا شکار تھا۔ اس کے والد مراد یہ سب بتاتے ہوئے اپنی بے بسی چھپا نہیں پاتے۔
مراد کرب سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹی کے کمزور جسم کے گرد لگی مشینوں کو دیکھتے ہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر گزرتا دن اس کی حالت کو مزید خراب کر رہا ہے جبکہ ادویات اور طبی سامان ناپید ہو چکا ہے۔ ان کے الفاظ میں غزہ میں لوگ گولی یا بم سے نہیں بلکہ دوائی کی کمی سے مر رہے ہیں۔
میس کی کہانی غزہ کے اجتماعی انسانی المیے سے الگ نہیں۔ یہاں تقریباً پندرہ لاکھ بے گھر فلسطینی خیموں اور پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں صاف پانی، خوراک اور علاج جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے باوجود حالات میں کوئی حقیقی بہتری نہیں آئی۔ امداد ضرورت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ قابض اسرائیل کراسنگ بند رکھ کر ادویات اور طبی سامان کی آمد کو مسلسل محدود کر رہا ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق کراسنگ کی بندش کے باعث ادویات کی نصف سے زیادہ اقسام اور تقریباً ستر فیصد طبی سامان ختم ہو چکا ہے۔ ہسپتالوں کو مجبوراً صرف زندگی بچانے کے چند اقدامات تک محدود ہونا پڑا ہے جبکہ خاص طور پر بچوں سمیت سینکڑوں مریض تشخیص اور علاج کے حق سے محروم ہیں۔
ناصر ہسپتال میں بچوں کے انتہائی نگہداشت شعبے کے سربراہ محمد عابد کہتے ہیں کہ غزہ کا صحت نظام دم توڑ رہا ہے۔ مناسب ٹیسٹ دستیاب ہیں نہ ادویات، نہ ہی مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنے کی راہ کھلی ہے۔ ان کے مطابق میس جیسے کئی بچے مہینوں سے طبی ریفرل تھامے بیٹھے ہیں مگر بند کراسنگ نے ان ریفرلز کو بے جان کاغذ بنا دیا ہے۔
قاتل خاموشی کا انتظار
کراسنگ کی بندش کے ساتھ ساتھ غزہ کے صحت نظام کو قابض اسرائیل کی منظم سفاکیت نے بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ نسل کشی کے دو برسوں کے دوران ہسپتال، طبی مراکز، ادویات کے گودام اور طبی عملہ براہ راست نشانے پر رہے۔
10 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود وزارت صحت بارہا خبردار کر چکی ہے کہ صحت کے نظام کو شدید اور بے مثال استنزاف کا سامنا ہے جس کے باعث تشخیصی اور علاجی خدمات تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جولائی سنہ 2024ء سے نومبر سنہ 2025ء کے درمیان کم از کم 1092 مریض صرف اس انتظار میں جان کی بازی ہار گئے کہ انہیں غزہ سے باہر علاج کے لیے نکالا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ان مریضوں پر مشتمل ہیں جو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ تھے جبکہ حقیقت میں انتظار کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
اب تک تیس سے زائد ممالک نے غزہ کے مریضوں کو قبول کیا ہے مگر مصر اور متحدہ عرب امارات جیسے چند ہی ممالک نے بڑی تعداد میں مریضوں کو جگہ دی ہے۔
عمر جو زندگی بچانے والے آپریشن کا منتظر ہے اور میس جو بھوک اور پیدائشی بیماریوں سے لڑ رہی ہے ان دونوں کے درمیان غزہ کے بچوں کی ایک پوری نسل کی دردناک تصویر ابھرتی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جسے کمزور جسموں اور شکستہ صحت نظام کے سہارے بیماری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان بچوں کے لیے کراسنگز کا کھلنا کسی مؤخر انسانی مطالبے کا نام نہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان واحد دروازہ ہے۔