غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی افواج کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آج پیر کی صبح ایک فلسطینی نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا جبکہ ایک اور شہری شدید زخمی ہو گیا۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ نوجوان احمد سمیر فرحات دو دن قبل خان یونس کے علاقے مواصی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور آج وہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اس کے علاوہ المغازی کیمپ میں قابض اسرائیل کی جانب سے ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک اور شہری شدید زخمی ہو گیا۔
گذشتہ اتوار کو بھی غزہ کی پٹی میں سیز فائر کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کے دوران قابض اسرائیل کی افواج کی فائرنگ اور وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں پانچ شہری شہید ہو گئے تھے جن میں سے تین کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔
قابض اسرائیل کی غاصب افواج غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے مسلسل گولہ باری کر کے سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی نام نہاد یلو لائن (پیلی لائن) کے اندر عمارتوں کو بارود سے اڑانے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی سفاکیت جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ سامانِ تجارت، انسانی امداد کی ترسیل اور شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی پابندیاں مسلط ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2024ء کو سیز فائر کے آغاز سے لے کر اب تک قابض اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 901 ہو چکی ہے، جبکہ 2,677 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ملبے کے نیچے سے 777 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء کی مجموعی تعداد تقریباً 72,794 تک جا پہنچی ہے اور 172,779 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ کی بھاری انسانی قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔