غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیل کی طرف سے مسلسل خلاف ورزیاں متواتر 231 ویں دن بھی جاری ہیں۔ حالانکہ اکتوبر سنہ 2025ء میں عرب اور امریکی وساطت سے ایک عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا اور جو اسی مہینے کی 11 تاریخ کو نافذ العمل ہوا تھا۔
ایمبولینس اور ایمرجنسی کے ایک مصلحتی ذریعے نے بتایا ہے کہ غزہ شہر کے وسط میں ایک گھر کو نشانہ بنا کر کی جانے والی اسرائیلی بمباری میں 10 شہری شہید ہو گئے ہیں۔
فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کے عملے نے غزہ شہر کے وسط میں واقع عمر المختار اسٹریٹ پر ایک گھر پر اسرائیلی بمباری کے بعد 4 بچوں سمیت 10 شہدا کے جسد خاکی نکالے ہیں اور 20 سے زائد زخمیوں کو منتقل کیا ہے، جس کے بعد بدھ کی صبح سے شہدا کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے جیسا کہ غزہ کے ہسپتالوں کے ذرائع نے تصدیق کی ہے۔
قابض دشمن کے جنگی طیاروں نے ایک گنجان آباد عمارت میں واقع رہائشی اپارٹمنٹ پر تین میزائل داغے جس کے گرد بے گھر افراد کے خیمے نصب تھے۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ شہر کے ہسپتالوں میں پہنچنے والے اکثر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سفاکیت میں شہید ہونے والے مظلوموں کے نام درج ذیل ہیں:
احمد عبد الوہاب ابو حلیمہ – 43 سال
نور احمد عبد الوہاب ابو حلیمہ – 12 سال
یامن احمد عبد الوہاب ابو حلیمہ – 13 سال
اسراء عماد سلیم – 17 سال
سیدرا ایاد عزام – 12 سال
سارہ سامح رجب – 9 سال
عماد حسان سلیم
شیماء خلیل شعبان السویرکی – 28 سال
احسان مطر بلبل – 81 سال
عطاف صبحی بلبل – 47 سال
اس نئے حملے سے چند گھنٹے قبل القسام بریگیڈز نے شہید محمد عودہ کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے اسٹاف کا ایک کمانڈر قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ بڑے قائدین کا یہ بزدلانہ قتل مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنے کے ان کے عزم کو مزید پختہ کرے گا۔
فلسطینیوں کے ایک بڑے اجتماع نے محمد عودہ کے جنازے میں شرکت کی جو الرمال محلے پر اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت شہید ہو گئے تھے۔
دوسری طرف اسی تسلسل میں قابض دشمن کی توپ خانے نے غزہ کی پٹی کے جنوب اور وسط میں واقع خان یونس شہر کے مشرقی محلوں اور البريج کیمپ پر شدید گولہ باری کی ہے۔
غزہ کی پٹی میں سرکاری میڈیا آفس نے گذشتہ کل بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل نے سیز فائر (یا جنگ بندی) معاہدے کے نفاذ کے بعد سے گذشتہ 227 دنوں کے دوران 3005 مرتبہ اس کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جس کے نتیجے میں 910 فلسطینی شہید اور 2747 دیگر زخمی ہوئے، جبکہ 82 شہریوں کو اغوا کیا گیا۔
میڈیا آفس نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ان خلاف ورزیوں میں عام شہریوں پر براہ راست بمباری اور حملے، پورے کے پورے رہائشی بلاکس کی تباہی، بار بار کی جانے والی فائرنگ اور رہائشی علاقوں کے اندر دراندازی شامل ہے۔ بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل نے 1 لاکھ 35 ہزار 600 امدادی ٹرکوں میں سے صرف 49 ہزار 973 ٹرکوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی جو داخل ہونے چاہیے تھے، یعنی صیہونیوں کی پابندی کی یہ شرح 36 فیصد سے زیادہ نہیں رہی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن مسافروں کو پٹی چھوڑنے کی اجازت دی گئی ان کی تعداد 17 ہزار میں سے صرف 5636 تھی، یعنی پابندی کی شرح محض 34 فیصد رہی اور انہوں نے اسے فلسطینیوں پر سخت تنگی کرنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نقل و حرکت کو روکنے کی صیہونی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔