غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی وزارتِ زراعت کی ایک رپورٹ نے جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران غزہ کی پٹی کے زرعی شعبے کو پہنچنے والی مکمل تباہی کو دستاویزی شکل دی ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ مکمل نسل کشی کی جنگ (2023ء-2025ء) کے دوران غزہ کی پٹی کا زرعی شعبہ وسیع پیمانے پر تباہی سے دوچار ہوا، جس کے نتیجے میں زرعی پیداواری ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر منہدم ہو چکا ہے۔ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر، جی آئی ایس (GIS) نظام، اور سرکاری زرعی ڈیٹا بیس کے تجزیے کی بنیاد پر اکثر شعبوں میں نقصان کی شرح 85 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کا کل نقصان تقریباً 3.49 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس میں 1.90 بلین ڈالر براہ راست نقصان اور 1.59 بلین ڈالر بالواسطہ نقصان شامل ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نباتاتی پیداوار کے شعبے میں فصلوں کی پیداوار میں بڑی گراوٹ آئی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی خوراک کی فراہمی کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کل 182,247 dونم (مقامی پیمانہ) اراضی میں سے 158,909 ڈونم اراضی کو نقصان پہنچا، جو کہ مجموعی نقصان کی شرح 87.1 فیصد بنتی ہے۔
نسل کشی کی جنگ نے براہِ راست زرعی آبپاشی کے نظام کو بھی تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ تقریباً 8,700 زرعی پانی کے کنویں مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ 3,828 زرعی تالابوں کو نقصان پہنچا اور 1,371 کلومیٹر طویل زرعی پانی کی نقل و حمل کی لائنیں تباہ ہو گئیں۔
مویشی پالنے کے شعبے (لائیو سٹاک) میں نقصان کی شرح 90.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ نقصانات میں 5,450 سے زائد مویشیوں کے فارمز اور تقریباً 2,300 پولٹری فارمز کی تباہی شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 69 ہزار بڑے مویشی اور 2.79 ملین پرندے ہلاک ہوئے، جبکہ 28,400 شہد کی مکھیوں کے چھتے بھی تباہ ہو گئے، جو اس شعبے میں ہونے والے وسیع نقصانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ماہی گیری کا شعبہ بھی نسل کشی کی اس جنگ سے محفوظ نہیں رہا۔ ماہی گیری کی تقریباً 1,674 کشتیاں، 7 فش فارمز، اور 450 سے زائد تالاب تباہ ہوئے، اس کے علاوہ غزہ کا واحد مچھلیوں کا ہیچری (مفرخ) بھی تباہ کر دیا گیا، جس سے ماہی گیری اور مچھلی کی پیداوار تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔
زرعی بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تقریباً 93 زرعی نرسریاں، 18 انکیوبیٹرز، اور 134 زرعی کولڈ اسٹوریج (فریج) تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری مراکز، ویٹرنری لیبارٹریز، تجرباتی اسٹیشنز، پانی صاف کرنے والے پلانٹس، اور ماہی گیروں کی بندرگاہوں اور متعلقہ خدمات کے ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
فلسطینی وزارتِ زراعت نے تصدیق کی کہ اس بے مثال تباہی نے زرعی پیداواری نظام کو مفلوج کر دیا ہے، جس سے غزہ کے باشندوں کی غذائی تحفظ میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں خاندان اپنے ذرائع آمدن سے محروم ہو گئے ہیں، جس سے امدادی کارروائیوں اور انسانی بنیادوں پر انحصار میں اضافہ ہوا ہے۔
اس تاریک حقیقت کے پیشِ نظر، وزارتِ زراعت نے تمام بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ کے اداروں اور عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زرعی شعبے کی بحالی اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے فوری اور ہنگامی اقدام کریں۔ تاکہ کسانوں، ماہی گیروں اور مویشی پالنے والوں کو دوبارہ پیداوار شروع کرنے کے قابل بنایا جا سکے، جس سے غذائی تحفظ اور غزہ کی پٹی کی معاشی بحالی میں مدد مل سکے۔