غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی سول ڈیفنس کے عملے نے غزہ شہر کے شیخ رضوان قبرستان سے 40 شہداء کے باقیات کو نکالا ہے، یہ کارروائی قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں زمینی دراندازی کے دوران قبرستان کے حصوں کو بلڈوز کرنے اور قبروں کو اکھاڑنے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
سول ڈیفنس نے ایک بیان میں کہا کہ باقیات کی منتقلی کا عمل قبرستان کے مشرقی حصے سے فارنزک ٹیموں، میڈیکل لیگل اور وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ انجام دیا گیا، تاکہ جانچ پڑتال اور متاثرین کی شناخت کی کارروائی کو مکمل کیا جا سکے۔
سول ڈیفنس نے واضح کیا کہ قبرستان کو بلڈوز کیے جانے کے نتیجے میں شہداء کے جسدِ خاکی اور باقیات آپس میں خلط ملط ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں ضروری ٹیسٹ اور شناخت کی دستاویز سازی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
دوسری جانب غزہ گورنری میں سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر برائے تعلقاتِ عامہ و میڈیا عبداللہ المجدلاوی نے تصدیق کی کہ عملے کو نکالے گئے اجساد کی شناخت میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ ملنے والے اکثر اجسام اعضاء کے ٹکڑوں اور گلے سڑے ڈھانچوں کی شکل میں ہیں جو بچوں اور معمر شہداء کے ہیں۔
المجدلاوی نے اشارہ کیا کہ قبروں کو اکھاڑنے اور بلڈوز کرنے کی کارروائیوں نے متعدد قبروں کے نشانات مٹا دیے اور باقیات کو آپس میں ملا دیا، جس نے اپنے پیاروں کے انجام سے باخبر ہونے اور ان کی شناخت درج کرانے کے خواہش مند خاندانوں کی تکالیف میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اس انسانی المیے کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا: ”ناموں کو نمبروں میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟“
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی میں تدفین کا بحران شدید ترین ہو چکا ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے ہی شہریوں کو محاصرے اور مرکزی قبرستانوں تک رسائی کی عدم دستیابی کے باعث عوامی چوکوں، راستوں اور ہسپتالوں کے احاطوں میں اجتماعی اور عارضی قبرستان بنانے پر مجبور ہونا پڑا، جن میں الشفاء ہسپتال، کمال عدوان ہسپتال اور المعمدانی ہسپتال شامل ہیں۔
اسی طرح غزہ شہر تدفین کے لیے جگہ کی شدید قلت سے دوچار ہے۔کیونکہ اس وقت شہر میں فعال قبرستانوں میں بنیادی طور پر شیخ رضوان قبرستان اور شہر کے مشرق میں واقع المعمدانی قبرستان ہی شامل ہیں، جس نے بہت سے خاندانوں کو پرانی قبروں کو دوبارہ کھولنے اور ایک ہی قبر میں ایک سے زائد شہید کو دفن کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ قبروں کی تیاری کے اخراجات بھی بہت بڑھ چکے ہیں۔
اس تناظر میں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا نے غزہ کی پٹی کے متعدد قبرستانوں کو اسرائیلی زمینی کارروائیوں کے دوران بلڈوز اور مسمار کیے جانے کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے، جس کے نتیجے میں مردوں اور شہداء کے باقیات اکھڑ کر خلط ملط ہو گئے، یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون اور اموات کے تقدس کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔