ایران نے امریکہ کے لیے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کو اتنا مہنگا اور خطرناک بنا دیا ہے کہ واشنگٹن کو اپنی علاقائی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی اور یہ خلیج فارس کے طاقت کے توازن میں ممکنہ طویل المدت تبدیلی کی علامت ہے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) سکیورٹی امور کے ماہر اور نیوز نیٹ ورک "ایم ایس ناؤ” کے تجزیہ کار بری مککافری نے اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر لکھا ہے۔ "میرے خیال میں امریکی فوج خلیج فارس میں اپنے 15 فوجی اڈوں تک رسائی ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہے۔” چند روز قبل واشنگٹن پوسٹ نے باخبر ذرائع اور حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پینٹاگون جنگ کے بعد خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ کا ارادہ ہے کہ خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو جنگ سے پہلے کی حالت میں دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے۔ پینٹاگون کے اس فیصلے کی وجہ جنگ کے دوران امریکی فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو پہنچنے والا بھاری نقصان بتایا گیا ہے۔
"ایم ایس ناؤ” کے مذکورہ سیکیورٹی تجزیہ کار، جو امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل بھی ہیں، انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا ہے: "ایران اس وقت خلیج فارس کے عرب ممالک تک رسائی کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے اور امریکہ کو مغربی سعودی عرب، اسرائیل اور جنوبی یورپ تک نئی رسائی حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔” یہ بیان اگر درست اور مستند طور پر نقل ہوا ہے تو اس کی اہمیت محض ایک امریکی جنرل کے تبصرے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں خلیج فارس میں جنگ کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ اسٹریٹجک تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
1۔ اصل اہمیت، امریکی فوجی رسائی کی ہے
بری مککافری کا یہ کہنا کہ امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی 15 فوجی تنصیبات تک مستقل رسائی کھو دی ہے، دراصل صرف اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکہ کی فوجی موجودگی، نقل و حرکت، نگرانی اور فوری ردعمل کی صلاحیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ اگر واقعی امریکہ کو ان اڈوں کی سابقہ سطح پر بحالی میں دشواری پیش آتی ہے تو واشنگٹن کو پورے خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
2۔ ایران کیلئے اسکا مطلب کیا ہے؟
بیان کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ: "ایران خلیج فارس کے عرب ممالک تک امریکی رسائی کو کنٹرول کر رہا ہے۔” اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ان ممالک کا سیاسی کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔ زیادہ درست مفہوم یہ ہے کہ ایران نے امریکی فوجی رسائی کو خطرے میں ڈالنے کی ایسی صلاحیت پیدا کر دی ہے کہ خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی موجودگی اب پہلے جیسی محفوظ اور بے فکری والی نہیں رہی۔ یہ ایران کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔
3۔ خلیجی ممالک کی حیثیت بھی بدل سکتی ہے
اگر امریکہ کو اپنے پرانے فوجی اڈوں پر اعتماد نہیں رہا تو سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے دفاعی تعلقات کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔ یہ ممالک شاید یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے اٹھائیں کہ: "اگر امریکی اڈے خود جنگ کا ہدف بن سکتے ہیں تو کیا امریکی فوجی موجودگی واقعی ہماری سلامتی میں اضافہ کرتی ہے یا ہمیں بھی جنگ کا فریق بنا دیتی ہے۔؟” یہ سوال ایران اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔
4۔ سب سے بڑا اسٹریٹجک مسئلہ، متبادل راستے
مککافری کا سعودی عرب کے مغرب، اسرائیل اور جنوبی یورپ کا ذکر خاص طور پر اہم ہے۔ اگر خلیج فارس میں امریکی رسائی محدود ہو جاتی ہے تو امریکہ کو اپنے فوجی سازوسامان، طیاروں، بحری جہازوں اور لاجسٹک نظام کے لیے متبادل راستے اور اڈے تلاش کرنا ہوں گے۔ یعنی ایران کے ساتھ جنگ کا اثر صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحیرہ احمر، مشرقی بحیرۂ روم، اسرائیل، سعودی عرب اور جنوبی یورپ تک امریکی فوجی لاجسٹکس کو متاثر کرسکتا ہے۔
5۔ ایرانی نقطۂ نظر سے سب سے مضبوط تعبیر
ایرانی نقطۂ نظر سے اس واقعے کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے: "جنگ کا نتیجہ صرف میزائلوں سے پہنچنے والے نقصانات تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے امریکہ کی خطے میں فوجی موجودگی کی لاگت اور خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔” یعنی ایران کی ممکنہ حکمت عملی کا مقصد صرف امریکی اڈوں کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ امریکہ کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہے کہ: "کیا خلیج فارس میں بڑی فوجی موجودگی برقرار رکھنا اب بھی امریکہ کے لیے قابلِ قبول اور اسٹریٹجک ہے۔؟” اگر یہ سوچ امریکی پالیسی میں مستقل جگہ بناتی ہے تو اسے ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اور دفاعی کامیابی سمجھا جائے گا۔
نتیجہ
ایران نے امریکہ کے لیے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کو اتنا مہنگا اور خطرناک بنا دیا ہے کہ واشنگٹن کو اپنی علاقائی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی اور یہ خلیج فارس کے طاقت کے توازن میں ممکنہ طویل المدت تبدیلی کی علامت ہے۔