(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ڈیزل اور دیگر ایندھن کی مناسب مقدار داخل کرنے میں مسلسل رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکز کے مطابق یہ صورت حال انسانی امدادی کوششوں کو ایک نہایت خطرناک اور تباہ کن مرحلے کی طرف دھکیل رہی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، بالخصوص قابض قوت کی ان ذمہ داریوں کی جن کا تعلق زیر قبضہ شہری آبادی کے تحفظ سے ہے۔
مرکز نے اپنےاخباری بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے ایندھن کی ترسیل پر عائد سخت پابندیاں اور دانستہ تاخیر، جو حیاتیاتی سہولیات کو چلانے کے لیے درکار مقدار کی اجازت دینے میں کی جا رہی ہے، غزہ کی پٹی میں زندگی کے تمام شعبوں پر خطرناک اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ یہ علاقہ پہلے ہی برسوں سے جاری جارحیت اور مسلط محاصرے کے باعث شدید انسانی تباہی کا شکار ہے۔
اسی تناظر میں مرکز نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی میں متعدد ہسپتال اور طبی مراکز کو مختلف اوقات میں اپنی خدمات محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جب کہ دیگر ہسپتالوں کا کام اب بھی غیر مستحکم ہے اور محدود مقدار میں دستیاب ڈیزل پر منحصر ہے۔ یہ سب قابض اسرائیل کی جانب سے بجلی پیدا کرنے والے جنریٹرز کے لیے درکار ایندھن کی مناسب اور باقاعدہ فراہمی میں مسلسل رکاوٹوں کا نتیجہ ہے۔ اس صورت حال نے مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے، خاص طور پر انتہائی نگہداشت کے شعبوں، آپریشن تھیٹروں اور نومولود بچوں کی نگہداشت کے وارڈز میں۔
ایندھن کی قلت کے اثرات پانی کی فراہمی، نکاسی آب، کوڑا کرکٹ اٹھانے، مواصلاتی نظام، بیکریوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے تک پھیل چکے ہیں، جس سے شہری آبادی کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوا ہے اور زندگی کے قابل ماحول کو مزید بگاڑ دیا گیا ہے۔ بیماریوں کے پھیلاؤ، صحت اور ماحولیات کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور باوقار زندگی کی بنیادی ضروریات کے فقدان نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے زور دے کر کہا کہ ایندھن کو دباؤ اور اجتماعی سزا کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک سنگین جرم اور جنیوا کنونشن کی چوتھی شق کی دفعہ 33 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو شہری آبادی کے خلاف اجتماعی سزاؤں پر پابندی عائد کرتی ہے۔
مرکز نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام مؤثر فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ کی پٹی میں بغیر کسی شرط اور رکاوٹ کے ڈیزل اور دیگر ایندھن کی مناسب اور مسلسل ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
مرکز نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ہسپتالوں اور دیگر حیاتیاتی سہولیات کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے اور انہیں مکمل تباہی سے بچایا جائے۔
بیان میں قابض اسرائیل کو ایک قابض طاقت کے طور پر اپنی مکمل قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پابند ٹھہرایا گیا اور غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف کی جانے والی سنگین خلاف ورزیوں پر اس کا محاسبہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مرکز نے خبردار کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل غزہ کی پٹی میں انسانی اور خدماتی نظام کے مکمل انہدام کا سبب بن سکتا ہے اور یہ شہری آبادی کے حق حیات، صحت اور انسانی وقار کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔