• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 23 جولائی 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home حماس

قیام سے نسل کشی کے دور تک، حماس کے سیاسی بیورو کی قیادت کا ارتقائی سفر

سیاسی بیورو کا قیام سنہ 1992ء میں قابض حکام کی جانب سے حماس کے صدہا کارکنوں کو جنوبی لبنان کے علاقے مرج الزہور جلاوطن کرنے کے بعد عمل میں آیا۔

جمعرات 23-07-2026
in حماس, خاص خبریں, رپورٹس
0
قیام سے نسل کشی کے دور تک، حماس کے سیاسی بیورو کی قیادت کا ارتقائی سفر
0
SHARES
0
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جب سے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے نوے کی دہائی کے اوائل میں اپنا سیاسی بیورو قائم کیا ہے، اس کی صدارت پر متعدد ایسے قائدین باری باری فائز رہے جن کے نام تحریک کی تاریخ کے انتہائی اہم اور موڑ دھار مراحل سے جڑے ہوئے ہیں۔

ہر مرحلے کے اپنے سیاسی و سکیورٹی حالات رہے ہیں اور ہر قیادت کی اپنی ترجیحات تھیں جو فلسطینی اور علاقائی تبدیلیوں کے نتیجے میں سامنے آئیں، جن کا آغاز اداروں کی تعمیر اور بیرونی تنظيم سازی سے ہوا، پھر غزہ میں حکومت کے نظم و نسق کو سنبھالنا اور بالآخر جاری جنگ کے سایے میں تحریک کی قیادت کرنا شامل ہے۔

سیاسی بیورو کا قیام.. وطن سے باہر قیادت

سیاسی بیورو کا قیام سنہ 1992ء میں قابض حکام کی جانب سے حماس کے صدہا کارکنوں کو جنوبی لبنان کے علاقے مرج الزہور جلاوطن کرنے کے بعد عمل میں آیا، جس نے تحریک کو اپنے بیرونی تعلقات کو چلانے اور اپنے اداروں کی دیکھ بھال کے لیے ایک منظم سیاسی فریم ورک قائم کرنے پر مجبور کیا۔

ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق کو سیاسی بیورو کا پہلا صدر منتخب کیا گیا، جنہوں نے اپنی قیادت کے برسوں کے دوران تحریک کی سیاسی موجودگی کو مستحکم کرنے، عرب اور اسلامی تعلقات کا ایک جال بچھانے اور فلسطین سے باہر سیاسی بیورو کے تنظیمی ڈھانچے کی پہلی اینٹیں رکھنے پر توجہ مرکوز کی۔

اس مرحلے کے دوران سنہ 1995ء میں قابض اسرائیل کی درخواست پر امریکہ میں ابو مرزوق کی گرفتاری کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد وہ بعد میں اردن روانہ ہو گئے، تاکہ خالد مشعل کی قیادت میں ایک نیا مرحلہ شروع ہو سکے۔

خالد مشعل.. بڑی تبدیلیوں کی دو دہائیاں

سنہ 1996ء میں خالد مشعل نے سیاسی بیورو کی صدارت سنبھالی اور وہ تحریک کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک قیادت کرنے والے قائد بن گئے، جن کی مدت بیس سال سے زائد عرصے پر محیط رہی۔

اس مرحلے میں انتہائی اہم واقعات رونما ہوئے، جن میں سنہ 1997ء میں اردنی دارالحکومت عمان میں ان کی قاتلانہ شہادت کی کوشش، پھر تحریک کی قیادت کی اردن سے شام منتقلی، اور بالآخر قطری دارالحکومت دوحہ میں قیام شامل ہے۔

خالد مشعل کے دور میں تحریک نمایاں سیاسی اور عسکری مراحل سے گذری، جن میں سب سے اہم انتفاضہ الاقصیٰ، سنہ 2006ء میں فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی، سنہ 2007ء میں غزہ کے امورِ حکومت سنبھالنا، اور پٹی پر قابض اسرائیل کی متواتر سفاکانہ جنگیں شامل ہیں۔

خالد مشعل نے فلسطینی مصالحت کے امور کی بھی قیادت کی اور تحریک کے علاقائی و بین الاقوامی تعلقات کو وسعت دی، اس سے پہلے کہ وہ تحریک کے داخلی آئین کی مقرر کردہ مدت مکمل ہونے کے بعد سنہ 2017ء میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

اسماعیل ہنیہ شہید.. سیاسی و سفارتی موجودگی

مئی سنہ 2017ء میں اسماعیل ہنیہ کے سیاسی بیورو کے صدر منتخب ہونے کے ساتھ ہی تحریک ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوئی جو بیرونی سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ غزہ میں داخلی امور کے نظام کو برقرار رکھنے سے ممتاز تھا۔

ان کی صدارت کے دوران تحریک کی کوششیں فائر بندی، اسیران کے تبادلے کے معاہدوں اور فلسطینی مصالحت کے ساتھ ساتھ علاقائی ثالثوں کے ساتھ رابطے کے راستے وسیع کرنے میں نمایاں رہیں۔

اسماعیل ہنیہ شہید کے دور میں سنہ 2021ء کی معرکہ ’سیف القدس‘ اور پھر سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد چھڑنے والی جنگ بھی دیکھی گئی، یوں وہ جولائی سنہ 2024ء میں ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنی شہادت سے قبل علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک کے سب سے نمایاں سیاسی چہروں میں سے ایک بن گئے۔

یحییٰ السنوار.. اس عہدے کی تاریخ میں مختصر ترین مدت

اگست سنہ 2024ء میں تحریک کی مجلسِ شوریٰ نے اسماعیل ہنیہ کی جگہ یحییٰ السنوار کو سیاسی بیورو کا صدر منتخب کیا، جس قدم کو جنگ کے سخت ترین حالات کے باوجود غزہ کے اندر سے قیادت کے تسلسل کی توثیق سمجھا گیا۔

تاہم السنوار کی صدارت کا دورانیہ اس عہدے کے قیام سے لے کر اب تک سب سے مختصر تھا، جو صرف دو ماہ برقرار رہا، اس سے پہلے کہ قابض اسرائیل نے اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ان کی شہادت کا اعلان کر دیا، اس طرح ایک استثنائی مرحلے کا خاتمہ ہوا جو تحریک کی تاریخ کی پیچیدہ ترین جنگوں میں سے ایک کے دوران اس کی قیادت سے وابستہ تھا۔

خلیل الحیہ.. نئے مرحلے کے چیلنجز

خلیل الحیہ کا سیاسی بیورو کا صدر منتخب ہونا تحریک کے سفر میں ایک نیا مرحلہ ہے، جو ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جنہیں اس کے قیام سے لے کر اب تک کے پیچیدہ ترین مراحل میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

نئی قیادت کے سامنے سب سے اہم چیلنجز سیاسی مذاکرات کو چلانا، غزہ میں میدانی پیش رفت سے نمٹنا، علاقائی تعلقات کو برقرار رکھنا اور گذشتہ برسوں کے دوران اپنے متعدد بارعب قائدین کی شہادت کے بعد تحریک کے اداروں کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہے۔

تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس سفر میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کی قیادت میں آنے والی تبدیلیاں ان حوادث اور تحولات کی عکاس رہی ہیں جن کا تحریک کو سامنا کرنا پڑا۔ اداروں کی تعمیر اور بیرونی کام کے مرحلے سے لے کر غزہ میں حکومت چلانے اور پھر جنگ کے دوران تحریک کی قیادت کرنے تک، سیاسی بیورو کی صدارت تحریک کے سیاسی و تنظیمی خد و خال وضع کرنے والے مؤثر ترین مرکزی ستونوں میں سے ایک رہی، جبکہ آج یہ خلیل الحیہ کی قیادت میں فلسطینی اور علاقائی سطح پر بے مثال چیلنجز کے درمیان ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

Tags: HamasHamas leadershipHamas Political BureauKhalil al-HayyapalestinePalestinian Politics
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.