پیرس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) یورپی پارلیمنٹ کے دوسرے بڑے سیاسی دھڑے "سوشلسٹ اینڈ ڈیموکریٹس” سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین اور قابض اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔
فرانسیسی شہر اسٹراسبرگ میں بدھ کے روز منعقد ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس بلاک کے اراکین نے ہال کے داخلی راستے پر بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ "کونسل کو یورپی یونین اور قابض اسرائیل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ معطل کرنا چاہیے”۔ یورپی قانون ساز ادارے کے اندر یہ احتجاجی قدم انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ان بڑھتے ہوئے مطالبات کے باوجود یورپی یونین قابض اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کے فریم ورک کے تحت اپنا تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کی قانونی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔
مذکورہ سیاسی بلاک نے سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے اس احتجاج کی تصاویر بھی جاری کیں اور ساتھ ہی ایک تحریر پوسٹ کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ "مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کی حامی آباد کاروں پر فوری طور پر پابندیاں عائد کی جائیں”۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے ڈھائی لاکھ کے قریب مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی حصے میں مقیم ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹس میں ان آباد کاروں پر فلسطینیوں کے خلاف مسلسل حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جو کہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے جبری طور پر بے دخل کرنے کی صہیونی پالیسیوں کا حصہ ہے۔
مذکورہ پارلیمانی بلاک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام یورپی یونین کی "مستقل ترجیح” ہونی چاہیے جس کا آغاز غزہ کی پٹی کی دوبارہ تعمیر سے ہو، ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے۔
اراکین پارلیمنٹ کی یہ تحریکیں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری مسلسل نسل کشی کی جنگ کے باعث اسرائیلی پالیسیوں پر یورپی سطح پر تنقید میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ اس وحشیانہ صہیونی جنگ کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں اور انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی افواج گذشتہ مارچ سے لبنان پر بھی اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہزاروں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے ہیں اور آبادی کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔