تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کی اپوزیشن جماعت "یشار” کے سربراہ گاڈی آئیزن کوٹ نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر پر شدید ترین لفظی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے بنجمن نیتن یاھو پر غاصب صیہونی عسکری کارروائیوں اور فوج کی آزادی کو محدود کرنے کا الزام لگایا جبکہ ایتمار بن گویر پر اندرونی سکیورٹی کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام ہونے اور ایک مکروہ "فاشسٹ نظریے” کو اپنانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ اعترافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان پر ہولناک مظالم ڈھائے جا رہے ہیں مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام ہے۔
آئیزن کوٹ نے "آئی 24 نیوز” چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ بنجمن نیتن یاھو اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین گہرے تعلقات نے قابض اسرائیل کے عسکری فیصلوں کی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ القسام بریگیڈز اور حزب اللہ کے ساتھ جاری شدید لڑائی کے باوجود صیہونی فوج کو لبنان جیسے مختلف محاذوں پر سخت ترین قیود اور عسکری پابندیوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے مزید اعتراف کیا کہ غاصب صیہونی حکومت غزہ، لبنان اور ایران میں بڑے پیمانے پر جاری اپنی وحشیانہ عسکری کارروائیوں اور انسانیت سوز مظالم کے باوجود کوئی بھی سیاسی یا تزویراتی فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صیہونیوں کی تمام تر نام نہاد عسکری کامیابیاں محض حکومتی قیادت کے ذاتی مفادات اور سیاسی اعتبارات کی بھینٹ چڑھ کر مٹی میں مل رہی ہیں۔
آئیزن کوٹ نے حالیہ برسوں کے دوران امریکہ میں قابض اسرائیل کے بری طرح گرتے ہوئے تشخص پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس شدید تنزلی کی تمام تر ذمہ داری بنجمن نیتن یاھو کی ظالم حکومت پر عائد کی ہے۔
سیاسی امور کا ذکر کرتے ہوئے آئیزن کوٹ نے نفتالی بینیٹ اور یائر لاپیڈ کے سیاسی اتحاد میں شامل ہونے کی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کا الگ الگ ہو کر انتخابی میدان میں اترنا بنجمن نیتن یاھو کی اس حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے، جسے انہوں نے قابض اسرائیل کے ناجائز قیام سے لے کر اب تک کی تاریخ کی بدترین اور ناکام ترین حکومت قرار دیا ہے۔
آئیزن کوٹ نے قابض صیہونی حکومت کے وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر عرب معاشرے کے اندر پھیلے جرائم کا سدباب کرنے میں بدترین ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی وزیر کی فاشسٹ پالیسیاں اور متعصبانہ مواقف قابض اسرائیل کی عوامی زندگی کے کسی بھی طور پر لائق نہیں ہیں۔
آئیزن کوٹ کے یہ تند و تیز بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب انتخابی معرکوں کے قریب آنے کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کے اندرونی سیاسی و عسکری حلقوں میں شدید خلفشار پیدا ہو چکا ہے اور سکیورٹی اور سیاسی محاذوں پر بنجمن نیتن یاھو کی ناکام حکومت کی کارکردگی پر اندرون ملک سے ہی تنقید کے شدید تیر چلائے جا رہے ہیں، جو فلسطینیوں کے لازوال نصب العین کے سامنے غاصب دشمن کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔