غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے ایک پناہ گزین مرکز کے اندر نصب چند میٹر کے پھٹے پرانے خیمے میں فلسطینی خاتون سماح ابو دقہ زمین پر بچھے کپڑے کے ٹکڑے پر بیٹھی ہیں اور عید الاضحیٰ کے استقبال کی تیاری میں اپنے خاندان کے بچے کھچے چند سامان کو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پھٹے ہوئے خیمے کی چھت سے بوسیدہ چادریں لٹک رہی ہیں جن کے ذریعے ابو دقہ گرمی کی تپش کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ان کے ارد گرد خالی برتن اور بکھرا ہوا سامان پڑا ہے، یہ وہ منظر ہے جو غزہ کی پٹی کے ان ہزاروں بے گھر افراد کی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے اس وحشیانہ نسل کشی کی جنگ میں اپنے گھر بار کھو دیے جو قابض اسرائیل نے آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی تھی اور دو سال تک جاری رہی۔
عید الاضحیٰ کی شام ابو دقہ اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدنے یا رشتہ داروں کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف نہیں ہیں جیسا کہ وہ گذشتہ زمانوں میں کیا کرتی تھیں، بلکہ وہ اس سوچ میں ڈوبی ہیں کہ اپنے خاندان کے افراد کے لیے کھانے کا بندوبست کیسے کریں جو اپنے کفیل اور خاندان کے اکثر ارکان سے محروم ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق تنظیم (یو این وومن) کی جانب سے اپریل سنہ 2026ء میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل کی اس وحشیانہ نسل کشی کی جنگ کے دوران 22 ہزار سے زائد خواتین اپنے شوہروں کو کھو کر بیوہ ہو چکی ہیں۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار اور اقوام متحدہ کے آبادیاتی فنڈ کی رپورٹوں کے مطابق صحت کے نظام کی تباہی اور غذائی قلت کے باعث لگ بھگ 55 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو شدید طبی خطرات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق غزہ کی پٹی کے 90 فیصد سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے بعض کئی کئی بار نقل مکانی کر چکے ہیں اور وہ بیماریوں کے پھیلاؤ، پانی اور ادویات کی شدید قلت کے مابین گنجان پناہ گزین مراکز یا کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
عظیم نقصان
ابو دقہ نے خیمے کے خلا میں گھورتے ہوئے نامہ نگار سے کہا: "میرے شوہر، بھائیوں، داماد، بہنوں کے شوہروں اور بھانجے کی شہادت کے بعد یہ پہلی عید ہے جو ہم پر گزر رہی ہے۔ وہ تمام لوگ جو گھر کو زندگی اور خوشیوں سے بھر دیتے تھے، رخصت ہو گئے”۔
انہوں نے رک رک کر کانپتی ہوئی آواز میں مزید کہا: "ہر عید پر پورا خاندان ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوتا تھا اور ملاقاتوں کا سلسلہ ٹوٹتا نہیں تھا، مگر آج کوئی نہیں آتا۔ میری بیٹی بیوہ ہو چکی ہے اور اس کے دو بچے ہیں اور ہم سب اس عظیم نقصان کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں”۔
غزہ کی پٹی کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے بے گھری کے کیمپوں میں سماح جیسی ہزاروں کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ایسی خواتین جنہوں نے اپنے شوہر، بچے یا گھر کھو دیے اور انہوں نے خود کو ایسے خیموں کے اندر پورے خاندانوں کی کفالت کا ذمہ دار پایا جو زندگی کی بنیادی ترین سہولیات سے بھی محروم ہیں۔
درد کا ایک نیا دن
ایک قریبی خیمے میں فلسطینی خاتون فتحیہ ابو دراز اپنے بچوں کے درمیان بیٹھی ہیں اور ان گذشتہ عیدوں کی یادیں تازہ کر رہی ہیں جو انہوں نے اپنے شوہر کی شہادت سے پہلے ان کے ساتھ گزاری تھیں، جیسا کہ انہوں نے نامہ نگار کو بتایا۔
ابو دراز نے کہا: "عید خوشی اور ملاپ کا موقع ہوا کرتی تھی، مگر اب یہ درد کا ایک نیا دن بن گئی ہے اور ان لوگوں کو یاد کرنے کا ذریعہ جنہیں ہم کھو چکے ہیں۔ میرے شوہر شہید ہو گئے اور میرا بیٹا شادی کی خوشی مکمل ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو گیا، اب ہمارے پاس یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا”۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "میں عید کا کوئی مطلب محسوس نہیں کرتی، گھر تباہ ہو چکے ہیں، خاندان بکھر گیا ہے اور بچے اس خوشی کے منتظر ہیں جسے فراہم کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے”۔
فلسطینی وزارت برائے خواتین کے امور نے دستاویزی طور پر تصدیق کی ہے کہ اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک 12,500 سے زائد خواتین شہید ہو چکی ہیں، جن میں 9,000 سے زائد مائیں شامل ہیں۔
زندگی بدل گئی
فلسطینی خاتون تغرید ابو طیر، جو جنگ میں زخمی ہونے کے نتیجے میں اپنے دونوں پیروں سے محروم ہو چکی ہیں، انہوں نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "جنگ نے غزہ میں زندگی کی ہر تفصیل کو بدل کر رکھ دیا ہے، بشمول عیدوں کے”۔
ابو طیر نے وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے کہاکہ "یہ وہ عید نہیں ہے جسے ہم جانتے تھے۔ یہاں بے گھری، بھوک، محاصرہ اور مستقل خوف ہے۔ لوگ جشن منانے کے بارے میں سوچنے کے بجائے روزی روٹی کا بندوبست کرنے میں مصروف ہیں”۔
ان کا حال جملات ابو مصبح سے مختلف نہیں ہے، جو ایک شہید کی بیوہ اور پانچ بچوں کی ماں ہیں اور وہ اپنے ان بچوں کو دلاسہ دینے کی کوشش کر رہی ہیں جو عید کے کپڑوں اور اپنے غائب والد کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔
ابو مصبح نے نامہ نگار کو بتایاکہ "نہ قربانی کے جانور ہیں، نہ نئے کپڑے اور نہ ہی ضرورت کے مطابق کھانا۔ میں اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن انہیں اپنے والد اور اس امن و خوشی کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے جو وہ انہیں دیا کرتے تھے”۔
قابض اسرائیل سنہ 2007ء سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کیے ہوئے ہے اور اس وحشیانہ نسل کشی کی جنگ میں رہائشی مکانات کی تباہی کے بعد پٹی کے تقریباً 2.4 ملین فلسطینیوں میں سے لگ بھگ 1.5 ملین فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی اندھی حمایت سے آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو قابض اسرائیل کی طرف سے شروع کی جانے والی دو سالہ اجتماعی نسل کشی کے بعد جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس صیہونی سفاکیت نے 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہدا اور 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی پیچھے چھوڑے۔
اس معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل محاصرے اور روزانہ کی بمباری کے ذریعے نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جس سے لوگ شہید اور زخمی ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ غزہ میں خوراک، ادویات، طبی سامان، پناہ گاہوں کے سامان اور تیار مکانات کی مناسب مقدار میں منتقلی کو روک رہا ہے، جہاں لگ بھگ 2.4 ملین فلسطینی، جن میں 1.5 ملین بے گھر افراد شامل ہیں، انتہائی تباہ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔