اسرائیلی حراستی مراکز میں اموات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی
اسرائیلی فوج نے غزہ اور لبنان کے خلاف حالیہ جنگوں کے دوران فلسطینی قیدیوں کی ہلاکتوں سے متعلق درجنوں تحقیقات مکمل کر لیں، تاہم کسی بھی کیس میں کسی اہلکار کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
ناصرت (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی فوج نے غزہ اور لبنان کے خلاف حالیہ جنگوں کے دوران فلسطینی قیدیوں کی ہلاکتوں سے متعلق درجنوں تحقیقات مکمل کر لیں، تاہم کسی بھی کیس میں کسی اہلکار کے خلاف فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے غزہ کے 56 فلسطینی قیدیوں اور ایک لبنانی قیدی کی ہلاکتوں پر مجموعی طور پر 57 فوجداری تحقیقات شروع کیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی مقدمہ چارج شیٹ یا سزا تک نہیں پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق سات تحقیقات ان واقعات سے متعلق تھیں جن میں قیدی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، تاہم ان کیسز میں بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے غزہ کے قیدیوں کی حراست کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود اسرائیلی فوج نے کسی اہلکار کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔
ہاآرتص نے بتایا کہ زیادہ تر ہلاکتیں ایسے فوجی حراستی مراکز میں ہوئیں جہاں نگرانی کے کیمرے نصب تھے اور وہاں فوجی اہلکار اور دیگر قیدی موجود تھے جو گواہی دے سکتے تھے، تاہم اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنگی حالات کے باعث شواہد جمع کرنا اور ملزمان کی شناخت کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض قیدی حراستی مراکز منتقل کیے جانے کے وقت پہلے ہی زخمی تھے، جبکہ کچھ قیدی بیماری اور مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث جان سے گئے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر تحقیقات 2024 میں شروع کی گئیں جب غزہ سے گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2023 میں 19 تحقیقات شروع ہوئیں، جن میں سے 13 اکتوبر کے دوران جبکہ مزید تین تحقیقات 2025 میں شروع کی گئیں۔
ہاآرتص کے مطابق اسرائیلی فوجی پراسیکیوشن نے تشدد یا طاقت کے غیر قانونی استعمال سے متعلق ملٹری پولیس کی 19 تحقیقات میں صرف دو مقدمات میں فردِ جرم عائد کی۔ ایک مقدمے میں سدی تیمان جیل منتقل کیے جانے والے قیدیوں کے ایک ٹرک ڈرائیور کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ دوسرے مقدمے میں یونٹ 100 کے فوجیوں پر غزہ کے ایک قیدی پر تشدد کا الزام تھا، تاہم بعد میں مقدمہ بند کر دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی بگڑتی ہوئی صحت کی صورتحال پر تشویش برقرار ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے قیدیوں کو تشدد، طبی غفلت اور علاج سے محرومی جیسے حالات کا سامنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے آغاز تک اسرائیلی جیلوں میں 9,400 سے زائد فلسطینی قیدی موجود تھے، جن میں 3,244 انتظامی حراست میں رکھے گئے افراد شامل ہیں۔ یہ تعداد اسرائیلی فوجی کیمپوں میں زیرِ حراست افراد کو شامل نہیں کرتی۔