شمالی غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کے وزیر خزانہ، انتہا پسند بزلئیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں تین یہودی بستیاں قائم کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اب صرف بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو کی منظوری کا انتظار ہے۔
سموٹریچ نے ’سدی روت‘ بستی کے دورے کے دوران کہا کہ شمالی غزہ میں تین بستیاں قائم کرنے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور منصوبے پر عمل درآمد کے لیے نیتن یاھو کی طرف سے "سبز جھنڈی” کا انتظار ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے سموٹریچ کے حوالے سے نقل کیا کہ قابض اسرائیل شمالی غزہ کے علاقے میں تین قصبے فوری طور پر قائم کرنے کے لیے تیار ہے اور انہوں نے نیتن یاھو پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کی حتمی منظوری دیں۔
شمالی غزہ میں بستیوں کے قیام کا یہ اعلان اسرائیلی انتخابی دوڑ کے تناظر میں سامنے آیا ہے، کیونکہ سموٹریچ اس اقدام کے ذریعے اپنے مذہبی اور آباد کاروں پر مشتمل انتخابی حلقے کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر اس صورتحال میں جب ان کی پارٹی ’صیہونی مذہبی‘ کی طاقت کمزور پڑ رہی ہے اور وہ انتخابی حد کے قریب لڑکھڑا رہی ہے۔
’سدی روت‘ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں سموٹریچ نے کہا کہ قابض فوج فی الحال غزہ کی پٹی کے تقریباً 70 فیصد رقبے پر قابض ہے اور انہوں نے باقی 30 فیصد پر قبضہ کرنے اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے خلاف جنگ کو فیصلہ کن حد تک پہنچا کر اسے شکست دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اس منصوبے پر پیش رفت جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "غزہ کی پٹی کے اندر سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حفاظتی پٹی قائم کی جائے جس میں یہودی قصبے شامل ہوں”۔ انہوں نے ان قصبوں کو "ڈھال والے قصبے” قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ "جہاں بستیاں نہیں ہیں، وہاں سکیورٹی بھی نہیں ہے”۔
واضح رہے کہ سموٹریچ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی بارہا غزہ میں یہودی بستیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2005ء میں، اُس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی جانب سے نافذ کردہ ’انخلاء کے منصوبے‘ کے تحت غزہ کی پٹی میں موجود تمام یہودی بستیاں خالی کر دی گئی تھیں، جبکہ اس کے ساتھ شمالی غرب اردن کی پانچ بستیاں بھی خالی کی گئی تھیں۔