مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی پریس یونین نے غاصب اسرائیلی حکام کو ان کی قید سے حال ہی میں رہا ہونے والے صحافی مجاہد بنی مفلح کی صحت میں ہونے والی انتہائی خطرناک گراوٹ کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یونین کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ساتھی صحافی بنی مفلح کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے، جنہیں غاصب اسرائیل کی جیل سے رہائی کے محض ایک دن بعد ہی ہنگامی طور پر رام اللہ کے استشاری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں تشخیص کے بعد ان کے دماغ کی شریان پھٹنے (برین ہیمریج) کا انکشاف ہوا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی صحت مسلسل گر رہی ہے؛ انہیں سات ماہ کی قید کے بعد رہائی کے اگلے ہی دن ہسپتال داخل کیا گیا تھا۔ اس اسیری کے دوران انہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طبی غفلت کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں غیر مناسب ادویات دی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یونین نے غاصب دشمن کی جانب سے انہیں بدترین تشدد اور منظم طریقے سے فاقہ کشی کا نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
فلسطینی صحافی یونین نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ساتھی صحافی مجاہد بنی مفلح کے ساتھ ہونے والے اس بہیمانہ سلوک کی فوری تحقیقات شروع کریں۔ یونین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس سمیت تمام متعلقہ اداروں کو اس صورتحال سے آگاہ کرے گی تاکہ فلسطینی صحافیوں کے خلاف غاصب اسرائیل کی جانب سے جاری دانستہ اور منظم قتلِ عمد کی اس سفاکیت کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ 36 سالہ صحافی مجاہد بنی مفلح، جو تین بچوں کے والد ہیں، اپنی حالیہ گرفتاری کے دوران غاصب اسرائیل کی تاریک جیلوں میں سات ماہ کی کٹھن قید کاٹ چکے ہیں۔