• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 11 جون 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

مزاحمتی محور مکمل تیار ہے

ایران اس جنگ میں مزید طاقتور ہو چکا ہے اور خطے میں استعماری اور غاصب قوتوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گا۔

جمعرات 11-06-2026
in خاص خبریں, مقالا جات
0
مزاحمتی محور مکمل تیار ہے
0
SHARES
1
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مورخہ 6 اور 7 جون کی درمیانی شب کو ایران اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے جنگی حملوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایران نے جیسا کہا تھا کہ وہ بیروت پر اسرائیلی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گاکر دکھایا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایران نے جوابی کاروائی کرنے کی بجائے اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ یعنی پہلے ایران کی حکمت عملی میں جوابی کاروائیاں تھیں کہ جب جب امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے جواب میں ایران نے جوابی کاروائی کی لیکن اس مرتبہ ایران نے جنگ کے تمام اصول تبدیل کر کے رکھ دئیےاور لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے بند نہ ہونے پر اسرائیل کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ایران اس چالیس روزہ جنگ کے بعد مزید طاقتور ہو کر نکل آیا ہے۔ اب ایران کسی جارحیت کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ اپنے قومی مفادات کی حفاظت اور خطے میں ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف کبھی بھی ایکشن لے سکتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیل پر داغے گئے میزائل اور ڈرونز اسی طاقت کا اعلان ہیں۔

دوسری جانب غاصب صہیونی گینگ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ریزرو فوجیوں کو میدان میں بلانے کا اعلان کر رہی ہے اور ایران کے خلاف محاذ آرائی کو طول دینے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔ اسرائیل کے ریڈیو پر یہ اعلان اس طرح بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف محاذ آرائی کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اسی طرح ایران بھی اسرائیل کی ان جارحانہ اعلانات اورپالیسیوں کے لئے پہلے سے زیادہ تیاری میں نظرا ٓ رہاہے۔ اب بات صرف ایران تک محدود نہیں ہے بلکہ کچھ روز قبل ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مزید جنرل محسن رضائی نے کچھ روز قبل ہی غیر ملکی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر جارحیت کی گئی تو پھر جنگ کا دائرہ صرف خلیج فارس تک نہیںبلکہ بحیرہ احمر، بحر ہند اور بحیرہ روم سمیت آبنائے باب المندب تک پھیلایا جائے گا اور اس طرح دنیا کی تمام معاشی سرگرمیاں بھی معطل ہو جائیں گی۔ جنرل محسن رضائی نے یقینایہ بات مکمل تیاری کےبعد ہی بیان کی ہے اور ان کا بیان اس بات کی عکاسی کر رہاہے کہ ایران سمیت خطے میں موجود تمام مزاحمتی دھڑے مکمل ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ بھرپور تیاری کے ساتھ میدن جنگ میں اترنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔

گذشہ چالیس روزہ جنگ کے بعد جو ایک بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی طرح کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا ہے۔یعنی یہاں پر ہمیں ایران کا تزویراتی صبر نظر آتا ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل کی تمام سازشوں کو ناکامی کا شکار کیا ہے۔ اس مرتبہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی کاروائیوں میں بھی ایران کے لب و لہجہ کے ساتھ ساتھ خطے کی مزاحتمی تنظیموں کی آمادگی بھی واضح ہو چکی ہے کہ یمن نے آبنائے باب المندب کو اسرائیل کے تمام جہازوں کے گزرنے پر بند کر دیاہے۔ یعنی باب المندب سے کوئ بھی اسرائیلی جہاز نہیں گزر سکے گا۔

اس تمام تر صورتحال کے بعد اب اسرائیل کے گرد تین طرف سے محاصرہ ہو چکاہے یعنی بحیرہ احمر کی موثر ناکہ بندی کےجو کہ یمنی محاذ کی جانب سے کی جا رہی ہے اور دوسری طرف لبنان میں موجود حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر روزانہ کے میزائل حملوں سے صیہونیوں کے لئے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے براہِ راست میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے ایرانی محاذ کے فعال ہونے کے بعد، اسرائیل اب تین اطراف سے ایک سٹریٹجک محاصرے میں جکڑا جا چکا ہے۔ان میں سے ہر ایک محاذ، انفرادی طور پر بھی، اسرائیل کے فوجی، اقتصادی اور نفسیاتی وسائل کو بڑے پیمانے پر چاٹ جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ایسے سنگین حالات میں، اسرائیل کی جانب سےفوری اور فیصلہ کن فتح کے وعدے فوجی پیش گوئیوں سے زیادہ سیاسی افسانہ معلوم ہوتے ہیں۔

ان تمام تر حالات میں امریکی سیاست بھی ایک سخت امتحان سے گزر رہی ہے کہ جہاں ایوان نمائندگان کی بڑی اکثریت ٹرمپ پر زور ڈال رہی ہے کہ ایران کے خلاف غیر قانی اوربلا جواز جنگ کو بند کیا جائے اور اب ساتھ ساتھ اسرائیل کی جارحیت بھی ٹرمپ کے لئے مزید مشکلاتایجاد کر رہی ہے ۔ٹرمپ اگر چاہتا بھی ہو کہ جلد از جلد معاہدہ ہو جائے لیکن اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ٹرمپ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ البتہ ٹرمپ بھی کوئی قابل اعتماد شخص نہیں ہے۔

امریکی انتظامیہ و مسلسل اسرائیل پر سفارت کاری کی خاطر تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے زور دیتی آئی ہےاب مذاکرات کے ممکنہ طور پر مکمل خاتمے پر سخت تشویش میں مبتلا نظر آتی ہے۔خود پینٹاگون کو بھی سنگین لاجسٹک خدشات کا سامنا ہے۔ امریکی دفاعی جائزوں کے مطابق، مخصوص اہم گولہ بارود کے ذخائر بالخصوص ٹوما ہاک کروز میزائل موجودہ دہائی کے آخر تک بھی شاید پوری طرح بحال نہ کیے جا سکیں۔یہ تلخ حقیقت واشنگٹن کو کسی اور وسیع فوجی تنازعے میں کودنے سے باز رکھتی ہے۔لہٰذا، اب سب سے قریبی قیاس منظر نامہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اسرائیل پر جنگ بندی قبول کرنے اور بادلِ نخواستہ سفارت کاری کی طرف لوٹنے کے لیے دباؤ بڑھائے۔تاہم، نیتن یاہو، جس کوعوامی مقبولیت میں مسلسل کمی اور اپنی سیاسی جماعت ’لیکوڈ‘ کی گرتی ہوئی ساکھ کا سامنا ہے، اس جنگی پھیلاؤ کو اپنی سیاسی بقا کے آخری راستے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران اور مزاحمتی بلاک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری محض اس کا فوجی دفاع نہیں، بلکہ طویل جنگ کی صورت میں اس کی معیشت، لاجسٹکس اور عوامی برداشت کا جواب دے جانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تہران اور اس کے اتحادی اس محاذ آرائی کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دیتے ہیں۔ایسے ماحول میں، خطے کو کسی بے قابو اور بڑے حادثے سے بچانے والی واحد طاقت نیتن یاہو حکومت پر واشنگٹن کا وہ فوری دباؤ ہو سکتا ہے جو انہیں کسی بھی قسم کی چاہے وہ نامکمل، غیر مستحکم اور عارضی ہی کیوں نہ ہوجنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کر دے۔یہی مجبوری در اصل ایران ک فتح کا نقارہ ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ ایران اس جنگ میں مزید طاقتور ہو چکا ہے اور خطے میں استعماری اور غاصب قوتوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو گا۔

Tags: alliesGeopoliticsIranMiddle Eastmilitary readinessRegional Tensionsresistance axis
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.