مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) آٹھ عرب و اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ان آٹھ ممالک نے شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف مسلسل خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قابض اسرائیل کے قبضے کے خاتمے اور منصفانہ امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
جمعرات کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں ان حالیہ حملوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی جن میں رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں جلجلیہ کی بڑی مسجد اور گاؤں مزارع النوبانی کی مسجد الفاروق کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا ان کی حرمت اور اس سے متعلق بین الاقوامی فیصلوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔
وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ یہودی آباد کاروں کے جرائم کا سلسلہ تشدد اور انتہا پسندی کو ہوا دینے اور امن کے حصول کے لیے کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو ناکام بنانے کا باعث بن رہا ہے، انہوں نے ان خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قابض اسرائیل کی حکومت کو ٹھہرایا۔
آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور قابض اسرائیل کو مغربی کنارے میں کشیدگی ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کام کرے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کے قبضے کے خاتمے اور منصفانہ، پائیدار اور جامع امن تک پہنچنے کے مقصد سے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔