مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مسجدِ اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے قبلہ اول پر غاصب صہیونی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے دھاووں کے خلاف سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ قابض اسرائیل اور اس کی انتہا پسند جماعتیں مذہبی اور موسمی مواقع کا ناجائز فائدہ اٹھا کر مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی اور اسلامی حیثیت کو تبدیل کرنے کے مذموم منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔
شیخ عکرمہ صبری نے اپنے ایک اخباری بیان میں وضاحت کی کہ مسجدِ اقصیٰ کے صحنوں میں غاصب آباد کاروں کی دراندازی اور اس کے ساتھ کی جانے والی اشتعال انگیز حرکات دراصل نئے حقائق مسلط کرنے کی بار بار کی جانے والی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ نام نہاد یوم آزادی کے موقع پر کیے جانے والے یہ حملے نہ تو پہلے ہیں اور نہ ہی آخری ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غاصب آباد کار اپنے ان دھاووں کے دوران دانستہ طور پر تلمودی رسومات ادا کرتے ہیں اور قابض اسرائیل کے جھنڈے لہراتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسجد کے صحنوں میں شور و غل کر کے اس مقدس مقام پر ایک نیا اور اجنبی رنگ تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز بدھ کو مسجدِ اقصیٰ کو قابض اسرائیل کی وسیع تر جارحیت کا سامنا کرنا پڑا جس میں قابض افواج کی فولادی سیکیورٹی میں 1250 سے زائد غاصب آباد کاروں اور سیاحوں نے مسجد پر دھاوا بولا۔ اس دوران عبرانی کیلنڈر کے مطابق نام نہاد یومِ آزادی کا جشن مناتے ہوئے غاصب آباد کاروں نے مسجد کے احاطے میں رقص و سرود کی محفلیں سجائیں اور علانیہ طور پر مذہبی صلواتیں ادا کیں۔
اس اشتعال انگیز مہم کے دوران ایک غاصب آباد کار نے مسجدِ اقصیٰ کے مغربی برآمدے کے قریب قبۃ الصخرہ کے عین سامنے قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرایا جبکہ درجنوں دیگر آباد کاروں نے اسی مقدس مقام پر اوندھے منہ لیٹ کر اپنی مذہبی رسومات (پروسٹریشن) ادا کیں۔