غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں مزاحمتی ونگ کے سکیورٹی شعبے سے وابستہ پلیٹ فارم "الحارس” نے ایک ایسے ایجنٹ کے اعترافات جاری کیے ہیں جس نے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں اور ڈکیتی کو قابض اسرائیل کی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کے لیے بطور ڈھال استعمال کیا۔
مزاحمتی سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق (ح۔ش) کے نام سے شناخت کیے گئے اس ایجنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ قابض دشمن کے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا اور اسے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ بنانے کے مشن سونپے گئے تھے۔ ایجنٹ نے انکشاف کیا کہ اس کا متعلقہ اسرائیلی افسر ان کی تمام تر نقل و حرکت کی براہ راست نگرانی کرتا تھا۔
ایجنٹ نے بتایا کہ قابض دشمن کے جاسوس اداروں (انٹیلی جنس) کے ساتھ اس کا رابطہ سنہ 2024 کے وسط میں اس وقت شروع ہوا جب اس نے جنگی علاقوں سے گزرنے کے لیے کوآرڈینیشن کے بہانے دشمن کی مخصوص ایپس کے ذریعے ان سے رابطہ کیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ قابض دشمن کی انٹیلی جنس نے اس شخص کی چوری اور لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا فائدہ اٹھایا اور اسے انسانی امداد کے ٹرکوں کا راستہ روکنے، امدادی قافلوں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کی نگرانی کرنے اور ان کے بارے میں تفصیلی معلومات جمع کرنے کا کام سونپا۔
مذکورہ ایجنٹ نے یہ لرزہ خیز انکشاف بھی کیا کہ اسے ایک مسلح گروہ تشکیل دینے کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے دشمن کی جانب سے بھاری رقم، اسلحہ اور مواصلاتی آلات فراہم کیے گئے تھے۔ مزید برآں اس گروہ کو مزاحمتی دستوں کی گرفت سے بچانے کے لیے اسرائیلی ڈرون طیاروں کے ذریعے فضائی تحفظ بھی فراہم کیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں ان مجرمانہ کارروائیوں کے دوران فلسطینی عوام کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔