مقبوضہ فلسطین – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی تنظیم عدالہ سینٹر نے انکشاف کیا ہے کہ وکلاء اور یکجہتی کارکن رضاکاروں پر مشتمل قانونی دفاعی ٹیم نے اشدود بندرگاہ کے اندر "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے سینکڑوں محصورین کو قانونی مشاورت فراہم کی ہے، جبکہ اس دوران قابض اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ سخت ترین پابندیوں نے تمام زیر حراست ا کارکنوں تک رسائی حاصل کرنے میں شدید رکاوٹیں کھڑی کیں۔
سینٹر نے واضح کیا کہ قانونی ٹیم نے حراست میں لیے جانے اور منتقل کیے جانے کے مراحل کے دوران متعدد یکجہتی کارکنوں کے خلاف شدید وحشیانہ تشدد، زخمی کرنے اور جنسی نوعیت کی تذلیل سے متعلق ہولناک شہادات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تمام گرفتار شدگان کو قابض اسرائیل کے محکمہ ہجرت کے حکام کے سامنے ابتدائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان میں سے اکثر کو کيتسيعوت ہسپتال یا جیل منتقل کر دیا گیا۔
عدالہ سینٹر نے مزید کہا کہ جمع کی گئی گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے یکجہتی کارکنوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جسمانی اور نفسیاتی اعتداء کے ساتھ ساتھ قانونی طریقہ کار کی منظم خلاف ورزیاں انجام دیں۔
سینٹر کے مطابق قانونی ٹیم کو ایسی یکساں گواہیاں موصول ہوئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بحری کشتیوں کو روکنے اور یکجہتی کارکنوں کو منتقل کرنے کے دوران حد سے زیادہ مفرور قوت اور سفاکیت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں سنگین چوٹیں آئیں اور کم از کم تین یکجہتی کارکنوں کو حراست میں واپس لانے سے پہلے ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
اسی طرح وکلاء نے درجنوں ایسے اسیران کے کیسز کو بھی ریکارڈ کیا ہے جن کی پسلیاں ٹوٹنے اور سانس لینے میں شدید دشواری کا شکار ہونے کا شبہ ہے، اس کے علاوہ عسکری ونگ اور قابض فوج کی کشتیوں میں منتقلی کے دوران بار بار الیکٹرک شاک ڈیوائسز (کرنٹ لگانے والے آلات) کے استعمال اور ربڑ کی گولیاں برسانے کی گواہیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
سینٹر نے اشارہ کیا کہ یکجہتی کارکنوں کو بندرگاہ کے اندر انتہائی توہین آمیز رویے کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ انہیں آگے کی طرف مکمل جھک کر چلنے پر مجبور کیا گیا جبکہ قابض گارڈز انہیں وحشیانہ طریقے سے دھکے دے رہے تھے، اور ان میں سے بعض کو بحری کشتیاں اور زوارق کے اندر طویل وقت تک گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی کہ یہ سنگین خلاف ورزیاں صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں تھیں، بلکہ ان میں توہین آمیز الفاظ، اشتعال انگیزی اور جنسی نوعیت کی ہراسانی شامل تھی، اس کے علاوہ زبردستی اور طاقت کے بل بوتے پر متعدد خواتین یکجہتی کارکنوں کے سروں سے حجاب نوچے گئے۔
عدالہ سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان اسیران کے حالات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جنہیں جمعرات کے روز قابض اسرائیل کی ایک عدالتی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جانا ہے تاکہ ملک بدری کی تیاری کے طور پر ان کی حراست کو بڑھانے پر غور کیا جا سکے، سینٹر نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ان کی قانونی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ان سماعتوں میں حاضری کا مطالبہ کرے گا۔
عدالہ سینٹر نے دونوں فلوٹیلا کے تمام شرکاء کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کی گرفتاری اور حراست مکمل طور پر غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔