غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اقتدار قومی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کے لیے تمام تر حکومتی اور انتظامی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں حکومتی اور انتظامی حکام کی جانب سے تمام ضروری اقدامات اور انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ تمام اختیارات اور وسائل غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے قائم آزاد قومی کمیٹی کے حوالے کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی یہ کمیٹی غزہ کی پٹی کی سرزمین پر پہنچے گی تمام شعبوں میں شفاف اور جامع انداز میں منتقلی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جو روزمرہ کے سول سروسز کے معاملات کو چلانے کا ذمہ دار ہوگا، یہ کمیٹی اپنے سربراہ علی شعث سمیت 11 فلسطینی شخصیات پر مشتمل ہے۔
اس کمیٹی نے گذشتہ ماہ وسط جنوری سنہ 2026ء سے مصری دارالحکومت قاہرہ سے اپنے کام کا آغاز کیا تھا، تاہم غزہ کی پٹی میں اب تک اس کی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں جہاں 24 لاکھ فلسطینی اسرائیلی نسل کشی کے باعث انتہائی تباہ کن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
حازم قاسم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس منتقلی کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو فلسطینی دھڑوں، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی کے رہنماؤں اور عالمی اداروں سے وابستہ شخصیات پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اقتدار کی ایک شفاف، مکمل اور مثالی منتقلی کے عمل کے شاہد ہوں گے، انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ کمیٹی کے کام میں سہولت فراہم کریں تاکہ دو سالہ وحشیانہ نسل کشی کی جنگ سے ہونے والی تباہی کے بعد پٹی کی بحالی کا آغاز ہو سکے۔
اس سے قبل حازم قاسم نے صحافیوں سے گفتگو میں اشارہ کیا تھا کہ دھڑوں، قبائل اور سول سوسائٹی کی ایک کمیٹی حکومتی اور انتظامی امور قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گی۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کے میڈیا نے حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران غزہ کی انتظامی کمیٹی کے ارکان کو رفح گزرگاہ کے ذریعے داخلے کی اجازت دی جائے گی، دشمن نے اس اقدام کو امریکی انتظامیہ کے لیے خیر سگالی کا اشارہ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ کمیٹی کی آمد گذشتہ روز اتوار کو متوقع تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اسے ملتوی کر دیا گیا، قدس نیوز نیٹ ورک نے کمیٹی کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ زمینی اشارے پیر کو روانگی کی راہ میں رکاوٹ ظاہر کر رہے ہیں اور غالب امکان ہے کہ ارکان رواں ہفتے کے دوران پٹی میں داخل ہوں گے۔
ذریعے نے مزید بتایا کہ اس لمحے تک کمیٹی کے کام کے لیے کسی ہیڈ کوارٹر کا انتظام نہیں ہو سکا ہے اور امکان ہے کہ بنیادی طور پر غزہ شہر میں کام کرنے کے لیے کوئی عمارت یا زمین کرائے پر لی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اب تک غزہ انتظامی کمیٹی کے لیے کوئی آپریٹنگ بجٹ فراہم نہیں کیا گیا کیونکہ اسے تاحال امداد کی مد میں کوئی رقم موصول نہیں ہوئی ہے۔