مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کی مسجد ابراہیمی میں اذان پر پابندی اب کوئی الگ تھلگ یا وقتی اقدام نہیں رہا، بلکہ یہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد مسجد کے تاریخی اور قانونی حقائق کو تبدیل کرنا، نمازیوں پر قدغنیں لگانا، اس کی نگران فلسطینی اتھارٹیز کو بے اختیار کرنا اور اس کے اندر یہودی آباد کاروں کا اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ابراہیمی مسجد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض میدانی خلاف ورزیوں سے آگے کی چیز ہے، بلکہ یہ یہودیت کاری کی ان پالیسیوں کا عملی نمونہ ہے جنہیں بعد میں مسجد اقصیٰ کے خلاف بھی آزمایا جا سکتا ہے، جس سے مذہبی تنازعہ کے شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مسجد پر کنٹرول کے لیے تیز رفتار اقدامات
قابض اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر کی مسجد ابراہیمی میں مسلسل چودہویں روز بھی اذان پر پابندی جاری رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نمازیوں کی آمد و رفت پر سختیاں اور مسجد کویہودیانےکے اقدامات بھی جاری ہیں۔
قابض فوج نے مسجد کے مرکزی دروازے (باب السوق) کو گھنٹوں بند رکھنا معمول بنا لیا ہے، جس سے شہریوں اور نمازیوں کی رسائی شدید متاثر ہوتی ہے۔
اسی سلسلے میں قابض فوج نے مسجد ابراہیمی کے نگران اعلیٰ اور ڈائریکٹر کو فوج کی ہدایات کی خلاف ورزی کے جھوٹے الزامات پر 12 دن کے لیے شہر سے بے دخل کر دیا تھا۔ یہ الزام اس بات پر لگایا گیا تھا کہ انہوں نے یہودی آباد کاروں کے دھاوے کے دوران مسجد میں فرش پر بچھائی جانے والی چٹائیوں کو ہٹانے کے فوجی احکامات کی پیروی نہیں کی۔ اسی طرح کے کیس میں مسجد کے پانچ ملازمین آج بھی تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب قابض اسرائیل نے الخلیل میونسپلٹی کی ٹیموں کو ابراہیمی مسجد کے گرد و نواح میں کسی بھی قسم کی خدمات فراہم کرنے سے زبردستی روک دیا ہے۔
اس حوالے سے بیت المقدس کے امور کے ماہر زیاد ابحیص نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیل ابراہیمی مسجد کو فلسطینی محکمہ اوقاف کے دائرہ اختیار سے نکال کر اس کی نگرانی ”کریات اربع“ بستی کی کونسل کے حوالے کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض فوج نے حال ہی میں لگاتار دس دنوں تک اذان پر پابندی لگائی، مؤذن کے کمرے کو بند کیا، مسجد کے ڈائریکٹر اور نگران اعلیٰ کو بے دخل کیا، اوقاف کے انجینئروں کو داخل ہونے سے روکا اور بحالی کمیٹی کے آلات ضبط کر لیے۔ یہ سب اقدامات مسجد کی دیکھ بھال اور تعمیر و مرمت پر مکمل اسرائیلی کنٹرول مسلط کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ابحیص نے مزید بتایا کہ قابض حکام سنہ 2024ء کے آغاز سے ہی اسرائیلی ”شمغار کمیٹی“ کے تقسیم کردہ فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلامی تہواروں پر مسجد کا شمالی حصہ مسلمانوں کے حوالے کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ یہودی تہواروں کے دوران آباد کاروں کو محراب اور منبر کے قریب جشن منانے اور رقص کرنے کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قابض فوج نے کرونا وبا کے دوران عائد بندشوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آباد کاروں کے لیے ایک نجی لفٹ نصب کی، جس سے انہیں مسجد کے مزید حصوں پر کنٹرول حاصل ہوا۔آج وہ مسجد کے کھلے صحن پر چھت ڈال کر پورے رقبے پر اپنا مکمل تسلط جمانا چاہتے ہیں۔
مسجد ابراہیمی یہودیانےکی ”تجربہ گاہ“
ابحیص نے خبردار کیا کہ مسجد ابراہیمی یہودیانے کی ایک ”تجربہ گاہ“ بن چکی ہے، جہاں قابض حکومت حقائق کو بتدریج تبدیل کرنے کی پالیسیوں کا تجربہ کر رہی ہے تاکہ انہیں مستقبل میں مسجد اقصیٰ پر لاگو کیا جا سکے۔
یہ سب الخلیل شہر کی اس صورتحال میں ہو رہا ہے جو سنہ 1994ء کے ابراہیمی مسجد کے قتل عام کے بعد سے جاری ہے۔ قابض فوج شہر کے مرکز اور حرم کے گرد و نواح پر اپنا کنٹرول مسلط کیے ہوئے ہے اور علاقے کی شناخت تبدیل کرنے کے لیے نقل مکانی اور یہودیت کاری کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
ان پالیسیوں کے باوجود الخلیل اب بھی ان فلسطینی شہروں میں سے ایک ہے جو اپنی قومی اور مذہبی شناخت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مسجد ابراہیمی میں آج جو کچھ مسلط کیا جا رہا ہے، وہ مستقبل میں مسجد اقصیٰ کو درپیش خطرات کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
عبادت کی آزادی کے خلاف مذہبی جنگ کی وارننگ
میدانی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، قانون دانوں اور مذہبی شخصیات نے اذان پر پابندی کے منصوبے کو فلسطینی شناخت اور عبادت کی آزادی کے خلاف مذہبی جنگ کا اعلان قرار دیا ہے۔
وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ اسرائیل اذان کو اپنی یہودیت کاری کی پالیسیوں کے راستے میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ غیر یہودی مذہبی اور قومی علامات کو مٹانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام میں بڑھتے ہوئے غصے اور کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متفقہ موقف اپنانے پر زور دیا۔
دوسری جانب فلسطینی علاقوں میں اوقاف کے متولیوں کی کمیٹی کے رکن فواد ابو قمیر نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک نسل پرستانہ فیصلہ ہے جو عبادت کی آزادی اور ایک بنیادی مذہبی حق پر حملہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی بقائے باہمی کے لیے تمام مذہبی عقائد کا احترام ضروری ہے۔
ابو قمیر نے خبردار کیا کہ اس قانون کے نفاذ سے مزید کشیدگی پھیلے گی اور سماجی تانے بانے بکھر جائیں گے۔ انہوں نے اپنے حقوق کے دفاع پر مبنی ایک جامع حکمت عملی اپنانے، مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان یکجہتی بڑھانے اور اس منصوبے کے خلاف میڈیا اور عوامی سطح پر بھرپور تحریک چلانے کا مطالبہ کیا۔
یہ بل سنہ 2011ء سے بار بار اسرائیل کی جانب سے شور شرابے کے بہانے اذان پر پابندی لگانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔