نیو یارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عبیر قواس نے امریکی سیاست کے پرپیچ اور دشوار گزار راستوں پر قدم رکھتے ہوئے نہ تو اپنی فلسطینی شناخت کو پسِ پشت ڈالا اور نہ ہی غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور خونی جنگ پر اپنے شدید احتجاج کی لو کو دھیما ہونے دیا۔ وہ ایک ایسے اثر آفریں اور جاندار بیانیے کے ساتھ میدانِ کارزار میں اتریں جس نے جنگوں پر بہائے جانے والے اندھے سرمائے کو بے گھر انسانوں کی رہائش اور معیشت کی بدحالی سے جوڑ دیا۔ مظلوم مہاجرین کے تحفظ کی جنگ کو فلسطینیوں کے منصفانہ نصب العین اور ان کے بنیادی حقوق کے دفاع سے ہم آہنگ کر دیا۔ اس بے باک جدوجہد کے نتیجے میں انہوں نے نیویارک اسٹیٹ سینیٹ کی بارہویں نشست پر تاریخی کامیابی کا پرچم لہرا دیا اور اس اعلیٰ ترین ریاستی قانون ساز ایوان کا حصہ بننے والی پہلی فلسطینی نژاد امریکی خاتون کا اعزاز حاصل کر لیا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی اس جری نمائندہ اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے وابستہ بیٹی کی یہ شاندار فتح دراصل اس مجاہدانہ کردار کو ایوان کی دہلیز تک لے آئی ہے جس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال عوامی خدمت اور سماجی عدل کے لیے وقف کر دیے تھے۔ ان کی اس انتخاباتی مہم کا دباؤ اس سے کہیں پہلے ’ہمارے پیسوں سے نہیں‘ نامی اس تاریخی اور روح پرور تحریک کی شکل میں ظاہر ہو چکا تھا، جس کا واحد مقصد نیویارک میں قائم نام نہاد غیر منافع بخش اداروں کی آڑ میں فلسطینیوں پر ہونے والی نسل کشی، سفاکیت اور غنڈہ گردی کی مالی اعانت کے راستے کو ہمیشہ کے لیے مسدود کرنا تھا۔
عبیر قواس کی یہ مسند واشنگٹن کی مرکزی اور وفاقی سینیٹ کے بجائے البانی میں واقع ریاستی قانون ساز کونسل سے متعلق ہے۔یہ ایک ایسا حدِ فاصل ہے جو اگرچہ ان کے آئندہ دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، لیکن اس سے مقبوضہ سرزمین پر ناپاک یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے بہنے والے غیر قانونی سرمائے کی روک تھام اور مقامی سطح پر اثر انداز ہونے کی انقلابی صلاحیت ذرہ برابر کم نہیں ہوتی۔
فلسطینی جڑیں اور پناہ گزینی کا کٹھن سفر
قواس کی ولادت اور پرورش بروکلین کے غیر متبدل اور محنت کش ماحول میں ہوئی۔ وہ ایک ایسے مظلوم فلسطینی خاندان کا چراغ ہیں جو غصب شدہ وطن سے ہجرت کر کے اردن کے راستے امریکہ پہنچا تھا۔ وہ نہایت فخر کے ساتھ خود کو ان فلسطینی پناہ گزینوں کی بیٹی کہتی ہیں جن کی پرورش ایک محنت کش اور باوقار خاندان نے کی۔ یہ درددل اور غصب شدہ ارضِ مقدس سے بندھا یہ ناطہ ان کے تمام تر سیاسی بیانیے کا دل و دماغ ہے، جس کے پس منظر میں ان کے والد کی ناحق حراست، اسیری اور بالآخر ظالمانہ جلاوطنی کا خونچکاں زخم کارفرما ہے۔
دسمبر سنہ 2025ء کے ایام میں جاکوبین میگزین کو دیے گئے ایک اثر انگیز انٹرویو میں انہوں نے اپنے سیاسی شعور کی بیداری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گیارہ ستمبر کے دردناک واقعات کے بعد پیدا ہونے والے جابرانہ ماحول نے ان کے خاندان، عرب اور مسلم برادری کے گرد خوف، کڑی نگرانی اور جلاوطنی کی تلوار لٹکا دی تھی۔
انہوں نے دلدوز لہجے میں یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ابھی ساتویں جماعت کی کمسن طالبہ تھیں تو ان کے والد کو قابض نظام نے حراست میں لے لیا اور پھر تین طویل اور تاریک سالوں تک عقوبت خانے میں قید رکھنے کے بعد انہیں جلاوطن کر دیا گیا۔ والد کی اسیری کے دوران عقوبت خانوں کے چکروں نے انہیں بچپن ہی میں اس کرب ناک حقیقت سے آشنا کر دیا تھا کہ کس طرح جابرانہ اسیری اور جبری ہجرت کا نظام پورے کے پورے خاندانوں کی خوشیاں نگل جاتا ہے۔
ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ پر درج داستانِ عزیمت کے مطابق والد کی گرفتاری نے پورے گھرانے کو معاشی اور نفسیاتی طور پر ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسی خونی تجربے کی بھٹی سے نکل کر ان کا یہ محکم ایقان پروان چڑھا کہ ہجرت اور گرفتاری کی ظالمانہ پالیسیاں صرف ایک فردِ واحد پر نہیں ٹوٹتیں، بلکہ وہ پورے خاندان کے وجود پر معاشی اور روح فرسا زخم چھوڑ جاتی ہیں۔
دستیاب اور مصدقہ دستاویزات ان کے آبا و اجداد کی فلسطینی جڑوں اور اردن سے ہجرت کے کرب ناک سفر کی تصدیق کرتی ہیں، لیکن وہ اس حتمی گاؤں یا قصبے کا پتا نہیں دیتیں جہاں سے اس خاندان کی پہلی بار زبردستی اور جبری نقل مکانی ہوئی تھی۔
قواس نے سنہ 2014ء میں نیویارک کے سٹی کالج سے بین الاقوامی مطالعات کی ڈگری حاصل کی، جہاں ان کی بنیادی توجہ لاطینی امریکہ کے المیوں اور ابھار پر مرکوز تھی۔
نیویارک میں قائم بین المذاہب ڈائیلاگ سینٹر کے سنہ 2016ء کے ایک تذکرے میں لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ڈھائے جانے والے مظالم کے درمیان مماثلتوں پر ان کے گہرے مطالعے اور مہاجرین کے حقوق، نسلی تعصب اور پولیس کی سفاکانہ نگرانی کے خلاف برسرِ پیکار اداروں کے ساتھ ان کے مسلسل عمل کا تذکرہ ملتا ہے۔
ان کے عملی سفر میں نیویارک کی کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیئر) اور اربن جسٹس سینٹر کے اسٹریٹ وینڈرز پروجیکٹ کی قابل تحسین خدمات شامل ہیں، جس کے بعد انہوں نے نیویارک کی عرب امریکن ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں میں حرارت اور شعور بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے علاوہ وہ سنہ 2012ء سے ہی ووٹرز کی بیداری اور رجسٹریشن مہمات میں پیش پیش رہی ہیں، یعنی سیاسی میدانِ عمل سے ان کا رابطہ ان کی اپنی انتخابی نامزدگی سے کہیں زیادہ پرانا اور پختہ ہے۔
قواس کے دل میں ایوانوں اور سرکاری اداروں میں شمولیت کی افادیت کے حوالے سے کچھ خدشات پائے جاتے تھے، تاہم جاکوبین میگزین کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے انکشاف کیا کہ سنہ 2017ء میں نیویارک سٹی کونسل کے لیے فلسطینی پادری خضر الیتیم کی انتخابی مہم ان کی زندگی کا بیدار کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس مہم نے انہیں دکھایا کہ کس طرح عرب نمائندگی کو معاشی عدل و انصاف کے ساتھ باندھا جا سکتا ہے۔ اسی معرکے کے دوران ان کی ملاقات زهران ممدانی سے ہوئی اور ارضِ فلسطین کی محبت میں دونوں کا سیاسی اور نظریہ جاتی بندھن وقت کے ساتھ ساتھ فولادی ہوتا چلا گیا۔
گذشتہ جون کی تپش میں انہوں نے کوئنز سے اسٹیٹ سینیٹ کی بارہویں نشست کی نامزدگی کے معرکے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرانے کھلاڑی اور اسمبلی رکن اسٹیفن راجا کو شکست سے دوچار کیا۔ انہوں نے اپنے منشور میں سستی رہائش، علاج معالجے کی سہولیات، عوام کے لیے بہترین ٹرانسپورٹ، مہاجرین کے حقوق اور غزہ پر مسلط کی جانے والی خونخوار جنگ کے لیے امریکی امداد کی شدید ترین مخالفت کو اکٹھا کر کے عوام کے سامنے پیش کیا۔
غزہ ان کی سچی آواز اور بیانیے کا محور
عبیر قواس نے ارضِ مقدس اور غزہ کے معاملے کو امریکہ کے عام شہری سے الگ کوئی بعید از قیاس یا بیرونی موضوع نہیں بنایا، بلکہ اپنی پُرتاثیر تقاریر میں انہوں نے غزہ کی تباہی کے لیے بہائی جانے والی اندھی امریکی مالی امداد کو نیویارک کے ان مظلوم شہریوں کے معاشی کلاوے سے ملا دیا جو مہنگائی، کٹوتیاں اور بنیادی سہولتوں سے محرومی کا عذاب جھیل رہے تھے۔
ان کا انتخاباتی منشور ’شرافت اور وقار کی مالی اعانت اور تباہی کے خلاف جنگ‘ کے ولولہ انگیز نعرے پر استوار تھا،ایک طرف صحت، سستی رہائش اور سفر کی سہولیات کا نعرہ تھا تو دوسری طرف مظلوم مہاجرین کی ڈھال بننے، ماحولیاتی تباہی کو روکنے اور سفاکانہ جنگوں کے لیے امریکی ڈالر کے بہاؤ کو ٹھکرانے کی عہد آفریں للکار تھی۔
ابتدائی انتخابی معرکے میں شاندار کامیابی کے بعد ’ڈیموکریسی ناؤ‘ جیسے عالمی پلیٹ فارم پر ظاہر ہوتے ہوئے انہوں نے غزہ میں جاری انسانیت سوز نسل کشی اور قابض ریاست کی سفاکیت پر ڈیموکریٹک اور امریکی سیاست دانوں کی مجرمانہ اور بھیانک خاموشی پر سخت تازیانے برسائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کے اس خونی اور سفاکانہ چکر کو توڑنے کے لیے قابض اسرائیل کے ناجائز تسلط کا خاتمہ ہی واحد راستہ ہے۔ یوں ان کا بیانیہ صرف انسانی ہمدردی کے عارضی مرہم تک محدود نہ رہا بلکہ انہوں نے اس پوری ریاستی پالیسی کا عدالتِ عالیہ کی طرح محاسبہ کیا جو اس تباہی کو ایندھن فراہم کر رہی ہے۔
جاکوبین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے اس المناک تضاد کو بے نقاب کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر اندرون ملک میں تو ترقی پسندی کا ڈھونگ رچاتے ہیں، لیکن جب فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق پر بات آتی ہے تو وہ بزدلی سے دم سادھ لیتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ قانون سازی کے ایوانوں میں فلسطین کا مقدمہ لانا ہی اس نام نہاد ترقی پسندی کا سچا اور عملی امتحان ہے۔
ہمارے پیسوں سے نہیں.. مظلوموں کی یکجہتی سے ایوانِ قانون تک
’ہمارے پیسوں سے نہیں‘ مہم ان کا وہ لائقِ تحسین اقدام ہے جس کے ذریعے قواس نے ارضِ فلسطین کے ساتھ اپنے عزم کو ایک قانونی اور قابلِ عمل ہتھیار میں ڈھال دیا۔ انہوں نے زهران ممدانی کے ساتھ مل کر اس تاریخ ساز بل کی بنیاد رکھی تاکہ چیریٹی اور غیر منافع بخش اداروں کا لبادہ اوڑھ کر قابض صیہونی ریاست اور اس کے غاصبوں کے ذریعے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی رقم پر ہمیشہ کے لیے کارروائی کی جا سکے۔
نیویارک کے ریاستی قانون ساز دفتر میں جمع اس تاریخی بل کا عنوان ’یہودی آباد کاروں کی سفاکیت اور تشدد کے لیے نیویارک کے سرمائے کا خاتمہ‘ ہے۔ اس کا ہدف ان تمام غیر منافع بخش اداروں پر پابندی لگانا ہے جو ناجائز بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے رقم فراہم کرتے ہیں اور ریاست کے اٹارنی جنرل کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ ان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اداروں پر سنگین سزائیں اور کارروائیاں لاگو کرے۔
اس قانونی پیش رفت کی اصل روح یہ ہے کہ اس نے جغرافیائی طور پر ہزاروں میل دور جلتے ہوئے وطن کے درد کو نیویارک کے آئینی اور ریاستی اختیارات سے باہم پیوست کر دیا ہے: کہ یہ چندے کیسے اکٹھے ہوتے ہیں؟ کون سے ادارے خیرات کا نقاب پہن کر انسانیت کی تذلیل کر رہے ہیں؟ اور ان کا پیسہ کس طرح فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں تک پہنچتا ہے؟
عبیر قواس کی یہ شاندار فتح ان حریت پسند اور ترقی پسند امیدواروں کے امریکی سیاست میں آنے کا روشن باب ہے جو ارضِ فلسطین کے دفاع کو عام آدمی کی روزمرہ معاشی اور سماجی ضرورتوں سے یکجا کر رہے ہیں۔ تاہم یہ اکیلی کامیابی اس بات کی مکمل ضامن نہیں کہ ووٹروں نے صرف غزہ کے موقف پر ہی اپنا فیصلہ سنایا، کیونکہ ان کی مہم نے مقامی رہائش، صحت اور مہاجرین کے حقوق پر بھی ایک تڑپتا ہوا اور زندہ بیانیہ فراہم کیا تھا۔
اگرچہ اس ریاستی سینیٹ میں پہنچنے سے انہیں قابض دشمن کو دی جانے والی امریکی وفاقی فوجی امداد کو براہِ راست روکنے کا اختیار تو نہیں مل جاتا—جس کا فیصلہ واشنگٹن میں ہوتا ہےلیکن اس سے انہیں نیویارک کی حدود میں قانون سازی، خیراتی اداروں کے احتساب اور مظلوموں کے حقوق کے لیے زبردست اتحاد بنانے کا باوقار اور تاریخی منبر ضرور مل گیا ہے۔
اور یہی عبیر قواس کا حقیقی اور کٹھن امتحان ہے، سال ہا سال کی احتجاجی تحریک اور نظریاتی موقف کو اب سچے قوانین، گونجتی ہوئی آوازوں اور ایوان کے اندر قائم ہونے والے تحاد میں تبدیل کرنا۔ وہ اپنی سچی فلسطینی شناخت اور غزہ کے مظلوموں کی فریاد کے ساتھ اس ایوان میں داخل ہوئی ہیں اور ان کے اس سفر کی حقیقی عظمت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ وہ ان اصولوں کے لیے ایوان کے اندر کتنی جرات مندانہ اور اثر انگیز جنگ لڑتی ہیں۔