غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں پٹرولیم اتھارٹی کے سربراہ ایاد الشوربجی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کھانا پکانے کی گیس کا شعبہ انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ کی پٹی کو موصول ہونے والی گیس کی مقدار انتہائی محدود ہے جبکہ آبادی کی کم از کم ضروریات پوری کرنے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر تقریباً 8 ہزار ٹن یعنی یومیہ 260 ٹن گیس کی ضرورت ہے۔
ایاد الشوربجی نے فلسطینی میڈیا فورم کے زیر اہتمام توانائی کے شعبے اور ایندھن کے بحران کی تازہ صورتحال پر منعقدہ ایک سیمینار کے دوران وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی معمولی بہتری کے باوجود اس وقت غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی گیس کی مقدار ماہانہ ضرورت کے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران کل 361 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں جن میں تقریباًسات ہزار ٹن گیس لائی گئی اور یہ وہ مقدار ہے جو بمشکل ایک ماہ کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک خاندان کو 8 کلو گرام کا گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے اس وقت تین ماہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ اس سلنڈر کے استعمال کی طبعی مدت تین ہفتوں سے زیادہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاندان کو اپنی اگلی باری کے لیے گیس کے استعمال کی مدت سے تین گنا زیادہ وقت انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
بلیک مارکیٹ کی روک تھام
بلیک مارکیٹ کے حوالے سے الشوربجی نے کہا کہ گیس کی مقدار کا کچھ حصہ بعض دکانوں تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کچھ شہری اپنا حصہ فروخت کر دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹیشنز کا حصہ 12 کلو گرام والے 100 سلنڈرز سے کم کر کے صرف 30 کر دیا گیا ہے جبکہ ڈسٹری بیوٹر کو ہر بھرائی کے عمل پر صرف ایک سلنڈر ملتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گذشتہ عرصے میں بعض خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں تاہم نگرانی کے طریقہ کار میں بہتری لا کر ان پر بڑے پیمانے پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقسیم کے مراکز پر ترازو رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ شہری گیس بھرنے سے پہلے اور بعد میں سلنڈر کا وزن کر سکیں اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
الشوربجی نے بتایا کہ تقریباً پانچ لاکھ افراد نے الیکٹرانک سسٹم میں رجسٹریشن کرائی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی کے ڈسٹری بیوٹر کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کی تقسیم کے مطابق 60 فیصد گیس غزہ کی پٹی کے جنوب اور وسطی علاقوں جبکہ 40 فیصد شہرِ غزہ اور شمالی علاقوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قابض اسرائیل کی سفاکیت کی وجہ سے گیس اور ایندھن کے 65 فیصد اسٹیشنز تباہ ہو چکے ہیں جو گیس کی اسٹوریج اور تقسیم کے عمل میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
ایندھن کا بحران
ایندھن کے حوالے سے الشوربجی نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی ضرورت ماہانہ تقریباً 30 ملین لیٹر ہے، جس کا نصف حصہ جنگ چھڑنے اور بجلی گھر کی بندش سے قبل وہاں استعمال ہوتا تھا جبکہ باقی نصف تجارتی شعبے کے لیے مختص تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ماہانہ بنیادوں پر صرف 10 سے 30 لاکھ لیٹر ایندھن داخل ہو رہا ہے جو کہ ضرورت کا محض 3 سے 10 فیصد ہے۔ یہ ایندھن انسانی بنیادوں پر ہسپتال، بیکریوں اور دیگر اہم تنصیبات کو ایک بین الاقوامی ادارے کی نگرانی میں فراہم کیا جا رہا ہے۔
الشوربجی نے متعلقہ حکام اور خصوصاً غزہ کی پٹی کی انتظامی کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے کام کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پٹرولیم اتھارٹی ایک پیشہ ور اور ماہر ادارے کے طور پر اس حیاتیاتی شعبے کے موثر اور منصفانہ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔