مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جمعرات کے روز پانچ سو چوراسی یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیل کی مسلط کردہ سکیورٹی کے حصار میں باب المغاربہ کے راستے مبارک مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولا اور اس کے صحنوں میں اشتعال انگیز دورے کیے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی وقف کے محکمے نے اطلاع دی ہے کہ انتہا پسند یہودا گلیک کی قیادت میں یہودی آباد کاروں نے مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولا اور عبرانی مہینے کے آغاز کے موقع پر قبہ صخرہ کے سامنے والے مشرقی حصے میں اجتماعی سجدے کے ساتھ ساتھ اجتماعی اور اعلانیہ عبادات اور رسومات ادا کیں۔
دھاوے کے دوران دو یہودی آباد کاروں نے یہودی مذہبی شال تالیت پہن کر کاہنوں کی برکت کی رسومات ادا کیں۔
ان دھاووں میں مسجد کے بیشتر حصوں کو نشانہ بنانے والی خلافورزیوں کے حجم میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا جہاں آباد کاروں نے مشرقی حصے کو عبادات اور رسومات کی ادائیگی کے لیے مرکزی نقطہ بنایا، اس کے علاوہ وہ مصلی مروانی کی چھت، مصلی قبلی کے صحن اور شمالی اور مغربی برآمدوں میں بھی پھیل گئے۔
آباد کاروں نے مسجد کے اندر اپنے دوروں کو باقاعدہ رقص، گانے اور بلند آواز میں اجتماعی تالیوں کے حلقوں میں تبدیل کرنے کا جان بوجھ کر مظاہرہ کیا اور ساتھ ہی انہیں نام نہاد ہیکل کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی، جو مسجد کے اندر نیا واقع مسلط کرنے اور اس کے تقدس پامال کرنے کے مسلسل اقدامات کا حصہ ہیں۔
اور اس کے برعکس قابض فوج نے مسجد الاقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر اپنے اقدامات اور پابندیوں کو سخت کر دیا اور بیرونی دروازوں پر ان کے شناختی کارڈ قبضے میں لے لے۔
قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس میں باب الاسباط کے قریب گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو روکا اور شہریوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی۔