غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی اسیران میڈیا کے دفتر نے بتایا ہے کہ اس وقت قابض اسرائیلی زندانوں میں قید فلسطینی صحافیوں کی تعداد 40 صحافیوں اور صحافی خواتین تک جا پہنچی ہے۔
اسیران میڈیا سینٹر نے ایک بیان میں اوضاحت کی ہے کہ دو صحافی تاحال جبری گمشدگی کا شکار ہیں اور ان کے انجام کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، یہ دونوں صحافی نضال الوحیدی اور ہيثم عبد الواحد ہیں جن کا تعلق غزہ پٹی سے ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی گرفتاری اور حراست کے واقعات کی تعداد تقریباً 220 تک پہنچ چکی ہے۔
اسیران میڈیا کے مطابق صحافیوں کی تازہ ترین گرفتاری اتوار کو علی الصبح عمل میں آئی، جب قابض اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے کے شمال میں واقع جنین کے مشرقی علاقے دیر ابو ضعيف گاؤں سے صحافی فاروق عمر علیات عمر 44 سال کو گرفتار کیا۔ وہ تین بچوں کے والد ہیں اور اس سے قبل بھی قابض اسرائیل کی جیلوں میں اسیر رہ چکے ہیں اور متعدد بار گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار فلسطینی صحافت کے خلاف قابض اسرائیل کی منظم سفاکیت اور اظہار رائے کو دبانے کی پالیسی کا کھلا ثبوت ہیں، جہاں حقائق بیان کرنے کی سزا قید و بند اور جبری گمشدگی بن چکی ہے۔