مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اتوار کو دسیوں یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسلسل اسرائیلی کشیدگی کے سائے میں مسجدِ اقصی المبارک پر دھاوا بول دیا، اس دوران مسجد سے بیدخلی کے احکامات، گھروں کی مسماری کے نوٹس اور شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارنے جیسے اقدامات بھی کیے گئے۔
القدس گورنری نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ 214یہودی آباد کاروں نے دو اوقات (صبح اور دوپہر کے بعد) میں گروپس کی شکل میں مسجدِ اقصی پر دھاوا بولا، جو کہ مبارک مسجد پر بار بار ہونے والے حملوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔
گورنری نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ بیت المقدس میں وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد 1639 تک پہنچ گئی۔
گورنری نے واضح کیا کہ قابض حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہیئتِ عملِ قومی کے رکن اور سرگرم کارکن احمد الصفدی اور کارکن ناصر الہدمی سمیت کئی دیگر سرگرم کارکنوں کو مسجدِ اقصی المبارک سے بیدخل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
قابض افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبہ کفر عقب میں مسماری کی تیاری کے لیے کئی گھروں کو خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے، جن میں 22 گھروں کے مالکان کو انخلاء کے احکامات تھمائے گئے اور انہیں ایک ہفتے سے زیادہ کی مہلت نہیں دی گئی، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ یہ گھر ان ۳۰ گھروں کا حصہ ہیں جن کے خلاف مسماری کے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
اسی ضمن میں قابض افواج نے قلندیا کیمپ پر چھاپہ مارا اور اس کے دروازے پر پوزیشن سنبھال لی، اس سے پہلے کہ ان کی گاڑیاں اس کے محلوں میں گھس گئیں، جہاں انہوں نے شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولا، ان کی تلاشی لی اور ان کا سامانتر بتتر کیا، اور ایک رہائشی کو گرفتار کر لیا۔
گورنری نے بتایا کہ قابض افواج نے اس کارروائی کے دوران پاپولر کمیٹی کی عمارت اور القدس گورنری کے دفتر پر قبضہ کر لیا، اور کارروائی کے دوران اور ان کی واپسی پر آنسو گیس کے گولے اور صوتی بم دھڑلے سے اور اندھا دھند برسائے۔
گورنری نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ قابض فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع قصبوں بیت عنان اور بیت لقيا کو ملانے والی سڑک پر سیمنٹ کے بلاکس رکھ دیے، تاکہ اس علاقے میں ایک فوجی گیٹ نصب کرنے کی تیاری کی جا سکے۔
مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصی میں اسرائیلی اقدامات میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے، جو یہودی آباد کاروں کے دھاووں میں اضافے، مرابطین اور کارکنوں کے خلاف بیدخلی کے احکامات نافذ کرنے، اور فلسطینیوں پر مسماری کی کارروائیوں اور تنگیوں میں اضافے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جو کہ مقدس شہر میں نئی حقیقتوں کو مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔