مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی تنظیم ’پیس ناؤ‘ نے تصدیق کی ہے کہ سال 2025ء مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کے منصوبوں میں غیر معمولی اضافے کا سال رہا۔
تنظیم کی رپورٹ جس کا عنوان ”دہشت گردی، بے دخلی اور الحاق کا ایک سال – 2025ء میں بستیوں کا خلاصہ“ ہے، میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اضافے میں نئی بستیاں اور آؤٹ پوسٹس قائم کرنا، بستیوں کی توسیع، آباد کاروں کے حملوں کی بڑھتی ہوئی شرح، فلسطینیوں کی تنصیبات کو مسمار کرنا اور ان کی آبادیوں کو بے دخل کرنا شامل ہے۔ یہ سب کچھ غرب اردن اور بیت المقدس کو تیزی سے ضم کرنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قابض حکام نے سال کے دوران 54 نئی بستیوں کے قیام کی منظوری دی، جن میں وہ آؤٹ پوسٹس بھی شامل ہیں جنہیں قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ مزید برآں، 27,941 آباد کار یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی گئی، 9,629 دیگر یونٹس کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے، اور 27 بستیوں کو نئی میونسپل حدود فراہم کی گئیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ سال 2025ء کے دوران 86 نئی بستی آؤٹ پوسٹس قائم کی گئیں، جن میں 60 چراگاہی آؤٹ پوسٹس شامل ہیں۔ یہ اوسطاً ہر ہفتے ایک یا دو نئی پوسٹس کے قیام کے برابر ہے، جس کے نتیجے میں آباد کاروں کے حملوں کی وجہ سے 22 فلسطینی آبادیاں مکمل یا جزوی طور پر بے دخل ہو گئیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ قابض حکام نے ’سی‘ (C) زون میں بغیر اجازت تعمیر کا بہانہ بنا کر 1,269 فلسطینی تنصیبات کو مسمار کر دیا۔
تنظیم نے فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف آباد کاروں کے 1,828 حملوں کو بھی دستاویزی شکل دی، جس کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید اور 838 زخمی ہوئے۔
تنظیم کا ماننا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو درپیش اندرونی بحرانوں کے باوجود، وہ آباد کاری کے منصوبے کو وسیع کرنے کے لیے اربوں شیکل خرچ کر رہی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ پالیسیاں فلسطینی ریاست کے قیام کے کسی بھی امکان کو روکنے کے لیے ہیں، اور خبردار کیا گیا کہ یہ تنازعہ کو طول دینے، اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی کو گہرا کرنے اور اس پر معاشی بوجھ بڑھانے کا سبب بنیں گی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ تر نئی بستیاں غرب اردن کی گہرائی میں قائم کی گئی ہیں، جو فلسطینی علاقوں کے بڑے حصے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرتی ہیں اور دو ریاستی حل پر مبنی سیاسی تصفیے کے امکانات کو ختم کرتی ہیں۔