• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 2 جنوری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

2025ء انروا کے لیے سب سے خطرناک سال، ادارہ تباہی کے دہانے پر: رپورٹ

تازہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025ء انروا کے لیے سب سے خطرناک سال ثابت ہوا ہے اور ادارہ انسانی خدمات فراہم کرنے کے لیے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے

جمعرات 25-12-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, غزہ
0
2025ء انروا کے لیے سب سے خطرناک سال، ادارہ تباہی کے دہانے پر: رپورٹ
0
SHARES
7
VIEWS

روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ

فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تنظیم باڈی 302 اور فلسطینیوں کے بیرون ملک عوامی کانفرنس میں قائم انروا فائل نے خبردار کیا ہے کہ سنہ 2025ء فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے ادارے ’انروا‘ کی تاریخ کا سب سے خطرناک سال ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 1949ء میں قیام کے بعد پہلی مرتبہ ’انروا‘ کو ایسی شدید سیاسی اور مالی یلغار کا سامنا ہے جس میں امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے براہ راست نشانہ بنایا جانا ادارے کو تباہی کے دہانے تک لے آیا ہے۔

جاری ہونے والی مشترکہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ ’انروا‘ کو درپیش موجودہ بحران کی جڑیں اس کے قیام کے وقت سے موجود ساختی خامیوں میں پیوست ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں غیر مستحکم رضاکارانہ فنڈنگ پر انحصار، پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کو صرف ادارے کے پانچ عملی علاقوں تک محدود رکھنا جبکہ ان علاقوں سے باہر موجود فلسطینی پناہ گزینوں اور سنہ 1948ء کے اندر بے گھر کیے گئے فلسطینیوں کو شامل نہ کرنا، نیز انسانی اور قانونی تحفظ کے کمزور پروگرام شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ذمہ داریاں دراصل اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق مصالحتی کمیٹی کو ادا کرنی تھیں جسے پچاس کی دہائی سے غیر مؤثر بنا دیا گیا۔

رپورٹ میں رواں سال کے دوران پیش آنے والی نہایت سنگین پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ان میں امریکی انتظامیہ کے اندر ’انروا‘ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر ہونے والی بحث، قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے القدس گورنری کے علاقے شیخ جراح میں انروا کے دفتر پر دھاوا، اقوام متحدہ کا پرچم اتار کر قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرانا اور وہ اسرائیلی قانون سازی شامل ہے جس کا مقصد مغربی کنارے اور القدس میں انروا کے کام پر پابندی لگانا اور اس کی بنیادی خدمات منقطع کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انروا کے مینڈیٹ کی تجدید کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے دوران یورپی حمایت میں نمایاں کمی آئی جہاں حمایتی ممالک کی تعداد 165 سے گھٹ کر 151 رہ گئی جبکہ پانچ ممالک نے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔ اسے صہیونی لابی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا واضح اشارہ قرار دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے انروا کو غیر جانبداری اور اس کے عملے کے سیاسی وابستگی سے متعلق الزامات سے بری قرار دیا تاہم اس کے باوجود امریکہ اور قابض اسرائیل کی جانب سے دباؤ کا سلسلہ نہ رک سکا۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ایان مارٹن کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انروا کی بعض ذمہ داریاں میزبان ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔ اسی کے ساتھ انروا کی جانب سے کلوونا رپورٹ کی گورننس سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد کی بات بھی سامنے آئی جس میں تقریباً 30 ہزار ملازمین کی نمائندگی کرنے والی ورکر یونینز کی از سر نو تنظیم شامل ہے۔

رپورٹ نے اس امر پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ قابض اسرائیل غزہ میں امداد کی فراہمی کو مغربی کنارے، القدس اور غزہ میں انروا کے خاتمے سے مشروط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نصاب تعلیم میں تبدیلی کے دباؤ اور منظم میڈیا مہمات کا بھی ذکر کیا گیا جن میں نیویارک میں دکھائی جانے والی فلم انروا کا خاتمہ سرفہرست ہے جو ادارے کے وجود کو ختم کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کو میزبان ممالک میں ضم کرنے کی وکالت کرتی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیلی، امریکی اور یورپی فریقین کے درمیان ممکنہ سیاسی سودے بازیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جن کے تحت فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں عارضی کردار دینے کے بدلے مغربی کنارے اور القدس میں انروا کے کام کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں انروا کے مستقبل سے متعلق متعدد منظرنامے پیش کیے گئے جن میں سیاسی حمایت برقرار رہنے مگر مالی وسائل نہ ملنے، خدمات کے معیار میں مزید کمی، دباؤ کا شام کے محاذ تک پھیل جانا، اور مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں چھاپوں اور تباہی میں اضافے کا خدشہ شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی وسیع سیاسی حمایت کے باوجود انروا کا دائمی مالی خسارہ سنہ 2026ء مارچ تک تقریباً 200 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پرفلسطینی قیادت اور عوام سے مطالبہ کیا کہ ادارے کے تحفظ اور مضبوطی کے لیے جامع قومی نظرثانی کی جائے اور عوامی، سیاسی، قانونی اور سفارتی سطح پر مؤثر تحریک شروع کی جائے تاکہ اقوام متحدہ کے اندر طاقت کے توازن کو بدلا جا سکے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ انروا کے دائرہ اختیار کو وسعت دینا اور فلسطینی پناہ گزینوں کے تحفظ میں اس کے کردار کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے تاکہ حق واپسی کے حصول تک ان کے حقوق کا دفاع ممکن بنایا جا سکے۔

Tags: 2025 ChallengesAid OrganizationgazaGaza ConflictHumanitarian CrisisOccupied PalestinePalestine NewsPalestinian RefugeesPalestinian RightsUNRWA
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.