مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین میں یہودی بستیوں اور نسلی تعصب پر قائم کردہ دیوار فاصل پر نظر رکھنے والے کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ رواں برس کے آغاز سے لے کر اب تک یہودی بلوئیوں کے سفاکانہ حملوں کے نتیجے میں 20 فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ کمیشن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان مجرمانہ حملوں کی رفتار گذشتہ دو برسوں کے مقابلے میں بے پناہ اور غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔
کمیشن نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ رواں برس کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والوں کی یہ تعداد سنہ 2024ء کے کل 11 شہداء اور سنہ 2025ء کے کل 14 شہداء کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ اموات میں یہ ہولناک اضافہ ان علاقوں میں حملوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جو نام نہاد چرواہا کالونیوں اور غاصبانہ سڑکوں سے متصل ہیں۔ یہی علاقے یہودی آباد کاروں کی ان درندگیوں کے لیے سب سے بڑی پشت پناہی فراہم کرتے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ رام اللہ اور البیرہ گورنری میں سب سے زیادہ یعنی 12 شہداء ریکارڈ کیے گئے جو کہ کل متاثرین کا 56 فیصد بنتے ہیں، اس کے بعد نابلس گورنری میں 3 شہداء، جبکہ الخليل اور القدس گورنری میں دو دو فلسطینی شہیدہوئے۔ایک فلسطینی سلفیت گورنری میں شہیدکیا گیا۔
کمیشن نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بے گناہوں کے قتل عام میں گولیوں کا استعمال سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے، کیونکہ 16 فلسطینی یہودی آباد کاروں کی گولیاں لگنے سے شہید ہوئے، جبکہ دو افراد تشدد اور تعاقب کرنے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے، ایک فلسطینی آنسو گیس کے زہریلے دھوئیں کے باعث دم توڑ گیا اور ایک اور مظلوم یہودی آباد کاروں کے حملے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے خالقِ حقیقی سے جا ملا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مظلوموں پر ظلم کے ہتھکنڈے کتنے متنوع اور وسیع ہو چکے ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں اور قابض فوج کی جانب سے فلسطینی زرعی اراضی پر حملوں میں مسلسل طوفانی تیزی آ رہی ہے، جن میں فصلوں کو نذرِ آتش کرنا، زمینوں کو بلڈوز کرنا اور کسانوں کو ان کی اپنی زمینوں تک جانے سے روکنا شامل ہے، بالخصوص ان علاقوں میں جو غیر قانونی بستیوں کے نزدیک واقع ہیں۔
سرکاری فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری قابض اسرائیل کے اس خونریز طوفان نے اب تک 1178 فلسطینیوں کو شہید اور 12 ہزار 666 کو زخمی کر ڈالا ہے، جبکہ تقریباً 23 ہزار افراد کو قید اور 33 ہزار کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے دربدر کیا جا چکا ہے۔