مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی پولیس اور اس کے مسلح سپیشل فورسز کی سخت سکیورٹی میں مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصی کے صحنوں میں دھاوا بول دیا۔
قدس کے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 180 یہودی آباد کاروں نے صبح کے وقت باب المغاربہ سے، جو سنہ 1967ء سے قابض اسرائیل کے کنٹرول میں ہے، گروہوں کی شکل میں مسجد اقصی کے صحنوں میں داخل ہو کر دھاوا بولا۔
ذرائع نے مزید کہا کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد کے صحنوں میں اشتعال انگیز چکر لگائے اور اس کے مشرقی حصے میں تلمودی رسومات ادا کیں، جس کے بعد وہ پہلے سے طے شدہ راستوں سے باب السلسلہ کے ذریعے واپس نکل گئے۔
ذرائع نے نشاندہی کی کہ قابض پولیس نے مسجد اقصی کے دروازوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور نمازیوں کو نماز کی ادائیگی کے لیے اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ متعدد فلسطینیوں کے شناختی کارڈ بھی قبضے میں لے لیے۔
اس تناظر میں، مسجد اقصی میں بڑے پیمانے پر دھاوے کرنے کے لیے انتہا پسند ’ہیکل‘ گروہوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے پیش نظر فلسطینیوں کی جانب سے مسجد اقصی میں جمع ہونے اور بڑی تعداد میں پہنچنے کی اپیلیں جاری ہیں۔
مسجد اقصی نے مئی کے مہینے میں اسرائیلی خلاف ورزیوں میں خطرناک اضافہ دیکھا، جو اس کے صحنوں کے اندر کھلے عام یہودی رسومات اور شعائر کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، نیز مسجد پر اسرائیلی ’خودمختاری‘ کے دعووں سے متعلق نئے حقائق مسلط کرنے کی بار بار کی جانے والی کوششوں کی صورت میں سامنے آیا۔
ریکارڈ کے مطابق، 7244 یہودی آباد کاروں نے دھاوا بولا، جبکہ 2690 دیگر افراد ’سیاحت‘ کی آڑ میں اندر داخل ہوئے، یہ سب ’ہیکل‘ گروہوں کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کے درمیان ہوا، جنہوں نے دھاووں کو تیز کرنے، قربانیاں لانے اور تلمودی رسومات مسلط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔