مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اتوار کی صبح 135 یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی سخت سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا اور اشتعال انگیز تلمودی رسومات ادا کیں۔
القدس کے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ یہ دھاوا صبح کے وقت کیا گیا، جس کے دوران قابض فوج نے مسجد اقصیٰ کے گردونواح میں سخت سکیورٹی کی آڑ میں بھاری تعداد میں فوج تعینات کی گئی تھی۔ اس سکیورٹی کا ہدف القدس کے رہائشی اور اندرونِ فلسطین کے باشندے تھے۔
اس تناظر میں سال 2026ء کے پہلے نصف میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی دھاووں اور خلاف ورزیوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کل 25 ہزار 604 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ میں دراندازی کی، اس کے علاوہ 5 لاکھ 24 ہزار 912 افراد نام نہاد ’سیاحت‘ کی آڑ میں مسجد کے اندر داخل ہوئے۔
القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ نے اپنی ایک مانیٹرنگ رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ سال 2014 ءسے 2025ء کے درمیان اس طرح کے مواقع پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے دوران 3108 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔
فاؤنڈیشن نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ خلاف ورزیاں صرف سیکیورٹی کے پہلو تک محدود نہیں رہیں بلکہ مسجد سے جڑے اقتصادی پہلوؤں تک پھیل گئی ہیں۔
فاؤنڈیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ صبح کے وقت ڈیوٹی پر موجود محافظوں کی تعداد کم ہو کر صرف 20 رہ گئی ہے، جو کہ ہر شفٹ کے لیے مختص سرکاری تعداد کا 39 فیصد سے بھی کم ہے، اور یہ ایک تاریخی نچلی سطح ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جون 2026 کے آخری ہفتے کے دوران 1072 سے زائد آباد کاروں نے یکے بعد دیگرے گروہوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا اور ساتھ ہی تلمودی رسومات اور دعائیں ادا کیں۔
مسجد اقصیٰ کی طرف پیش قدمی کی اپیلیں
دوسری جانب فلسطینی اوربیت المقدس کے حلقوں کی جانب سے ایک بار پھر عوامی سطح پر مسجد اقصیٰ کی طرف نکلنے، ’نفیر عام‘ اور مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں قیام اختیار کرنے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ یہ اپیلیں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور انتہا پسند گروہوں کے ان منصوبوں کے پیشِ نظر کی گئی ہیں جن کا مقصد نئے یہودیانے والے حقائق مسلط کرنا ہے۔
القدس کے اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے اندر اپنی موجودگی بڑھائیں اور نماز میں مؤثر شرکت یقینی بنائیں تاکہ اس کے اسلامی اور عرب تشخص کا دفاع کیا جا سکے اور اسے تنہا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس، اندرونِ فلسطین اور مغربی کنارے کے ان تمام شہریوں کے لیے وسیع عوامی اپیلیں شروع کی گئی ہیں جو شہر تک پہنچ سکتے ہیں، تاکہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں مستقل موجودگی کو تقویت دی جا سکے۔
ان اپیلوں کا مقصد مسجد اقصیٰ کے مکمل رقبے کے اسلامی اوقاف کا ہونے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے، تاکہ قابض حکام کی جانب سے شہر کے تاریخی اور تہذیبی آثار کو مٹانے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔