مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ بیت المقدس میں درجنوں انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے قابض اسرائیلی پولیس کی سخت سکیورٹی حصار میں مسجد اقصیٰ کے مبارک صحنوں میں دھاوا بول دیا اور اشتعال انگیز گشت کیا۔
بیت المقدس کےذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 116 یہودی آباد کاروں نے باب المغاربہ جو کہ 1967ء سے مکمل اسرائیلی کنٹرول کے تحت ہےکے راستے سے قابض پولیس اور اس کی مسلح اسپیشل فورسز کی سکیورٹی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں تلمودی رسومات اور عبادات ادا کیں ، مبینہ ہیکل کے بارے میں بریفنگ لی۔ باب السلسلہ سے پہلے سے طے شدہ راستوں کے ذریعے مسجد سے باہر نکل گئے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قابض پولیس نے نوجوانوں اور نمازیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں، ان میں سے کچھ کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا، جبکہ آباد کاروں کے دھاووں کو محفوظ بنانے کے لیے بیرونی دروازوں پر بعض افراد کے شناختی کارڈ ضبط کر لیے گئے۔
یہودی آباد کاروں کے گروہ جمعہ اور ہفتہ جو کہ قابض حکومت کی سرکاری تعطیلات ہیں، کے علاوہ روزانہ دو اوقات میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بولتے ہیں، صبح کا دورانیہ جو صبح 07:30 بجے شروع ہو کر 12:00 بجے تک جاری رہتا ہے، دوپہر کا دورانیہ ظہر کی نماز کے بعد شروع ہو کر 90 منٹ تک جاری رہتا ہے۔