مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارہ سال کے آغاز سے ہی قابض صہیونی فورسز کی بڑھتی ہوئی یلغار کی زد میں ہے، جبکہ فلسطینی مرکز اطلاعات معطی کے نئے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2026ء کے آغاز سے اب تک 6600 گرفتاریاں اور 107 شہداء ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورتحال فلسطینی شہروں، قصبوں اور کیمپوں میں جاری فوجی کارروائیوں، تعاقب اور فائرنگ کے مسلسل اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کشیدگی کا تازہ ترین واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب قابض فوج کی طرف سے البیرہ شہر کے علاقے ام الشرايط پر دھاوه بولنے کے دوران زیاد محمد الجابر شہید ہو گئے، جس کے بعد معطى کے اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 107 ہو گئی ہے۔
گرفتاریاں بھی اس تسلسل سے الگ نہیں دکھائی دیتیں کیونکہ سال کے آغاز سے ہی قابض فورسز مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر چھاپے اور گرفتاری کی مہمات چلا رہی ہیں، اور کئی یلغاروں کو وسیع فوجی کارروائیوں میں تبدیل کر رہی ہیں جن میں گھروں کی تلاشی، فائرنگ اور فلسطینیوں کا تعاقب شامل ہوتا ہے۔
سال کے آغاز سے اب تک 6600 گرفتاریاں
معطى کے مطابق سنہ 2026ء کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں گرفتاریوں کی کل تعداد تقریباً 6600 ہو چکی ہے، جو ان مسلسل صہیونی مہمات کے تسلسل میں ہے جو غزہ کی پٹی پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے تھمی نہیں ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد سے مغربی کنارے میں گرفتاریوں کی مجموعی تعداد 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں وہ حراستی کارروائیاں بھی شامل ہیں جو قابض فورسز نے مغربی کنارے کے شہروں، کیمپوں اور قصبوں میں چھاپوں اور یلغاروں کے دوران انجام دیں۔
نو مہینوں میں 107 شہداء
معطى نے سال کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے میں 107 شہداء کی شہادت کا احصاء کیا ہے، جو چھاپوں اور صہیونی فوجی کارروائیوں کے دوران مسلسل فائرنگ کے سائے میں سامنے آیا ہے۔
البیرہ میں الجابر کی شہادت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یہ کارروائیاں جاری ہیں، جو ایک بار پھر اس منظر کو تازہ کرتی ہیں جہاں قابض فورسز کی طرف سے آباد علاقوں میں کیے جانے والے دھاووں، گرفتاریوں اور تعاقب کے دوران فلسطینی شہید ہوتے ہیں۔