مقبوضہ مغربی کنارہ -(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اس کی جارحیت کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں قلقیلیہ، نابلس اور طولکرم میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 شہریوں کی شہادت کے بعد رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک مقبوضہ غرب اردن میں شہداء کی مجموعی تعداد 100 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نابلس، قلقیلیہ اور طولکرم کے اضلاع میں چار فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
نابلس کے ضلع میں قبالہ قصبے کے رہائشی 34 سالہ شہری محمود محمد عربی محسن قابض فوج کی گولیوں سے زخمی ہو کر شہداء میں شامل ہو گئے، جن کی لاش اس خبر کی تیاری تک قابض فوج کے قبضے میں ہے۔
عقربا قصبے میں نوجوان عبد کریم محمد خضر سلیمان اس وقت شہید ہو گئے جب قابض فوج نے اس گھر کا محاصرہ کیا جس میں وہ تقریباً پانچ گھنٹے تک پناہ لیے ہوئے تھے۔ ان پر فائرنگ اور کندھے پر اٹھائے جانے والے راکٹ داغے۔
قلقیلیہ گورنری میں یہودی آباد کاروں کے ایک حملے کے دوران نوجوان عمر الطوباسی سر پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو کر شہید ہو گئے، جبکہ مسلح آباد کاروں کے دو حملوں میں ایک بچے سمیت دیگر تین شہری زخمی بھی ہوئے۔
طولکرم کے شہری دفاع نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے شہید اسعد ملیحہ کی لاش نکالی۔ وہ ان کارکنان میں سے تھے جو طولکرم شہر میں زکواۃکمیٹی کی اس برانچ میں مقیم تھے جس پر قابض فوج نے دھاوا بولا تھا۔
اس طرح سال 2026ء کے آغاز سے لے کر اب تک غرب اردن میں فلسطینی شہروں، قصبوں اور کیمپوں پر قابض فوج کے روزانہ کے دھاووں، دیہات اور قصبوں پر مسلح آباد کاروں کے حملوں میں شدت اور غزہ کی پٹی پر جاری جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی کل تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔