(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) یمن کی انصار اللہ تحریک کے قائد، سید عبدالملک الحوثی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سے متعلق مذاکرات میں شامل ثالثوں کو چار دن کی مہلت دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روکے رکھے گی، تو اس کے خلاف سمندری کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی۔”
علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، سید الحوثی نے فلسطین میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حالیہ مظالم کی نشاندہی کی اور کہا کہ "ہم صرف بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں، بلکہ فلسطینیوں کی مختلف شعبوں میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں معاہدے پر عملدرآمد کے دوران واضح ہو گیا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر انسانی حقوق سے متعلق امور میں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ "یہ ریاست انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔”
سید الحوثی نے کہا کہ "حماس کے برادران نے اپنی تمام ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرنے کا مظاہرہ کیا، اور ان کا رویہ معاہدے کی پاسداری میں واضح رہا۔”
انہوں نے مزید کہا: "معاہدے کے تحت انسانی فلاح و بہبود کے اقدامات کی ضمانت دی گئی تھی، لیکن غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے ان میں کمی کی کوشش کی اور اپنی واضح ذمہ داریوں سے فرار اختیار کیا۔”
جہاں تک مغربی کنارے اور القدس میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملوں کا تعلق ہے، سید الحوثی نے وہاں صیہونی افواج اور آبادکاروں کے وحشیانہ حملوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت، خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ، صیہونی مفادات کی کھلم کھلا حمایت کر رہی ہے اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ فلسطینیوں کے خلاف غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے مظالم کا بھرپور جواب دینے کے لیے ایک واضح اور مؤثر موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
