• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 13 جون 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

نیوزی لینڈ میں صیہونی ریاست کو جنگی جرائم پر سزا دینے کا بل پیش

اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی اس معاملے پر متحد ہو چکی ہیں، اور اب صرف چھ حکومتی اراکین کی حمایت درکار ہے تاکہ یہ بل قانون بن سکے

اتوار 16-03-2025
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں, غزہ, فلسطین
0
نیوزی لینڈ میں صیہونی ریاست کو جنگی جرائم پر سزا دینے کا بل پیش
0
SHARES
6
VIEWS

(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) نیوزی لینڈ میں حالیہ برسوں میں فلسطینی مسئلے کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے موقف میں نمایاں شدت دیکھی گئی ہے۔ ان جماعتوں نے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کی ہے، خاص طور پر جب سے غزہ اور مغربی کنارے پر صیہونی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

 نیوزی لینڈ کی سیاست میں یہ موقف 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد مزید مضبوط ہوا، جب کئی سیاسی جماعتوں نے صیہونی ریاست کی جنگی جرائم کی مذمت کی اور نیوزی لینڈ کی حکومت پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔

اس تناظر میں نیوزی لینڈ کی گرین پارٹی ایک نمایاں سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے، جس نے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں واضح مؤقف اپنایا۔ اس جماعت نے صیہونی جارحیت کی کھل کر مذمت کی اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کچھ اراکین نے بھی زیادہ متوازن خارجہ پالیسی کی حمایت پر زور دیا، جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت شامل ہے اور عالمی برادری کی دوہری پالیسیوں پر تنقید کی گئی ہے۔

نیوزی لینڈ میں سیاسی بیانیے کی پیش رفت

یہ کوششیں ایک اہم قانون سازی کی شکل میں سامنے آئیں، جس کی قیادت گرین پارٹی نے کی۔ اس نے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا، جس کا مقصد غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر اس کے فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم کی وجہ سے پابندیاں عائد کرنا تھا۔ اس بل نے نیوزی لینڈ میں فلسطینی مسئلے پر سیاسی بیانیے میں ایک اہم تبدیلی کو ظاہر کیا، اور بالآخر ملک کی تمام پارلیمانی اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص "لیبر” اور "ماوری” پارٹیوں کی حمایت حاصل کر لی۔

چلوئی سواربریک: حکومتی ارکان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی گرین پارٹی کی شریک صدر اور رکن پارلیمنٹ، چلوئی سواربریک نے کہا کہ "یہ بل دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اسے ووٹنگ سے واپس نہیں لیا گیا”۔ انہوں نے عربی نیوز ویب سائٹ”العربی الجدید” سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ "پارلیمانی ضابطے کے مطابق، اگر 123 اراکین میں سے 61 کی حمایت حاصل ہو جائے تو یہ بل براہ راست پارلیمنٹ میں بحث کے لیے جا سکتا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں اس بل کی حمایت میں اپوزیشن جماعتوں کے تمام 55 ارکان کی حمایت حاصل ہے، لہٰذا ہمیں صرف حکومتی اتحاد کے چھ اراکین کی مزید حمایت درکار ہے”۔

حکومتی جماعتوں کے ممکنہ موقف کے بارے میں سواربریک نے کہا، "مجھے معلوم ہے کہ حکومتی جماعتوں میں ایسے اراکین موجود ہیں جو انسانی حقوق کے دفاع کی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے عوام نے ان سے کیا توقعات رکھی ہیں”۔

انہوں نے مزید کہا، "یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نیوزی لینڈ نے اقوام متحدہ میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل پر اس کے فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے باعث پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس بل کو اسی عمل کا عملی آغاز سمجھا جانا چاہیے”۔

اپوزیشن کا اتحاد اور اگلے اقدامات

دسمبر میں، جب وزیر اعظم کرسٹوفر لکسون سے پارلیمنٹ میں اس بل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اسے "غور سے دیکھیں گے”، تاہم اب تک حکومتی وزراء کی جانب سے اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ سواربریک نے کہا، "ہمیں درحقیقت حکومتی وزراء کے ووٹوں کی ضرورت نہیں، ہمیں صرف اس بات کی یقین دہانی درکار ہے کہ وہ اسے روکنے کی کوشش نہیں کریں گے اور حکومتی اراکین اپنی ضمیر کے مطابق آزادانہ ووٹ ڈال سکیں گے، جو ان کا جمہوری حق ہے”۔

نیوزی لینڈ کی گرین پارٹی فلسطینی عوام کے حق میں اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ سواربریک کے مطابق، "بل کے علاوہ، ہم حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کرے، فلسطینیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر ویزے جاری کرے، غیر قانونی صیہونی بستیوں میں مالی سرمایہ کاری روکے، اور اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (اونروا) کے لیے نیوزی لینڈ کی فنڈنگ میں اضافہ کرے”۔

سیاسی دباؤ کی حکمت عملی

گرین پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ریکارڈو مینندیز نے "العربی الجدید” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے دو بنیادی مقاصد ہیں نمبر ایک حکومتی جماعتوں پر دباؤ ڈالنا کہ وہ بل کی حمایت کریں نمبر دو س بات کو یقینی بنانا کہ یہ بل ایک پائیدار پالیسی کے طور پر برقرار رہے، اور اگر حکومت تبدیل بھی ہو جائے تو بھی پابندیوں کا نظام نافذ کیا جا سکے۔

سواربریک نے نیوزی لینڈ کے شہریوں کو پیغام دیا کہ جو لوگ اس بل کو قانون بنتے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ "نیشنل” اور "نیوزی لینڈ فرسٹ” پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے براہ راست رابطہ کریں اور انہیں اس بل کے حق میں ووٹ دینے کے لیے آمادہ کریں۔ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی اس معاملے پر متحد ہو چکی ہیں، اور اب صرف چھ حکومتی اراکین کی حمایت درکار ہے تاکہ یہ بل قانون بن سکے۔

Tags: ریکارڈو مینندیزسواربریک
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.