(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ)عرب کونسل نے غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے پر زور دیا، اسے "انسانیت کے خلاف جرم، بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ، اور بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
کونسل کے مطابق، یہ منصوبہ استعمار اور نسل پرستی کو فروغ دیتا ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف ظلم و جبر کو مزید تقویت دیتا ہے۔
عرب سربراہی اجلاس: فلسطین برائے فروخت نہیں
گزشتہ روز، جمعہ کو، عرب کونسل نے "بالفور اعلامیہ سے ٹرمپ کے اعلان تک: فلسطین برائے فروخت نہیں” کے نعرے کے تحت ایک ورچوئل سربراہی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کی صدارت تیونس کے سابق صدر محمد منصف مرزوقی نے کی، جبکہ اس میں عرب سیاست دانوں، مفکرین، اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ایک وسیع تعداد نے شرکت کی۔
عرب عوام فلسطینی کاز کے ساتھ کھڑے ہیں
اجلاس کے حتمی بیان میں کہا گیا”یہ سربراہی اجلاس زندہ عرب عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لیے منعقد کیا گیا، جو کچھ حکومتوں کی جانب سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کے باوجود فلسطینی کاز کے ساتھ ثابت قدم ہیں۔”
مزید کہا گیا کہ "بین الاقوامی برادری اور اس کے ادارے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وحشیانہ قتل عام کو روکنے میں ناکام رہے، جبکہ غزہ میں فلسطینی عوام کو بدترین قتل و غارت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔”
عرب کونسل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنائے۔
