امریکی واسرائیلی اتحاد کے خاتمہ کا آغاز (پہلا حصہ )
حالیہ دنوں کہ جب امریکہ نے اسرائیل کی ایماء پر ایران پر براہ راست حملہ کر دیا ہے اورا ب اس جنگ کو سمیٹنا امریکی حکومت اور فوجی انتظامیہ کے لئے بھی قابل عمل نہیں رہاہے۔
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حالیہ دنوں کہ جب امریکہ نے اسرائیل کی ایماء پر ایران پر براہ راست حملہ کر دیا ہے اورا ب اس جنگ کو سمیٹنا امریکی حکومت اور فوجی انتظامیہ کے لئے بھی قابل عمل نہیں رہاہے۔ امریکہ ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے کہ جہاں سے نکلنا یا نہ نکلنا دونوں صورتوں میں ذلت اور شکست کا طوق امریکی حکومت کی گردن میں آنا ہی آنا ہے۔
حالات اور واقعات کا مشاہدہ کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہےکہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے وہ کارنامہ انجام دے دیا ہے جس کے صرف ان کے پیشرو خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔ یعنی تہران کے اوپر امریکہ اور اسرائیل کے جنگی طیاروں کی یکجا پروازیں، اور فلوریڈا میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں قائم اسرائیلی افسران۔ ڈیوڈ بن گوریان کے دنوں سے لے کر اب تک، اسرائیل کے رہنما دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ان کی ریاست کی مستقل بقا کی ضمانت دے گی۔ کوئی بھی تعاون کی اس سطح کا تصور نہیں کر سکتا تھا جو اس وقت سامنے آ رہی ہے۔ اگر دی اولڈ مین جیسا کہ بن گوریان کے نام سے جانا جاتا تھاکو زند کیا جائے تو یقینا وہ اپنے خواب کی تعبیر پر خوش ہو گا۔
تاہم، ظاہری مناظر دھوکہ دہی پر مبنی ہو سکتے ہیں۔ ایک لحاظ سے، امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اپنے عروج پر ہیں۔ لیکن اگر دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ پہلے ہی اپنے زوال کے آخری دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہ سیاسی، نظریاتی اور سماجی ستون جن پر پچھلی آدھی صدی سے خاص اتحاد قائم تھا، اب گرنا شروع ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا وکالتی نظام جس میں امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) جیسے لابی گرو ہ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ جیسے یہودی سماجی ادارے، اورکرسچنز یونائیٹڈ فار اسرائیل جیسے عیسائی صیہونی گروہ شامل ہیںایک زمانے میں کیپیٹل ہل (امریکی کانگریس) میں ایک ناقابلِ تسخیر طاقت ہوا کرتا تھا۔ آج کے شدید سیاسی تقسیم کے ماحول میں، اس کا اثر و رسوخ ڈگمگانے لگا ہے، جسے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگریسو (ترقی پسند) دھڑے اور ابMAGAاتحاد کے نئے تنہائی پسند دھڑے کی طرف سے چیلنج کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف عوامی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب آدھے سے بھی کم امریکی یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل کی امریکی حمایت قومی مفاد میں ہے۔ تاریخ میں پہلی بار، امریکی اب اسرائیلیوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ اور نہ ہی اب یہ بات مسلمہ رہی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی ایک جیسے ثقافتی اور مذہبی اقدار کے حامل ہیں۔ جیسے جیسے امریکہ کم عیسائی اور زیادہ تنوع کا حامل ہوتا گیا ہے، اسرائیلی معاشرہ زیادہ روایتی اور اس کی عوامی ثقافت مزید محدود اور بند ہوتی گئی ہے۔ امریکہ کے دائیں اور بائیں دونوں سیاسی دھڑوں میں، سام دشمنی یعنی Antisemitismحاشیے سے نکل کر مرکزی دھارے کی سیاست میں سرائیت کرنے لگی ہے، جسے بڑھتی ہوئی تعدادخاص طور پر نوجوانوں اور مایوس طبقےمیں عوامی مقبولیت کے اس دور میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔
یہ تبدیلیاں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی کاروائی سے پہلے ہی جاری تھیں۔ لیکن اس کے بعد اسرائیل کی طرف سے غصے میں غزہ کی تباہی، اس تباہ شدہ علاقے کا محاصرہ اور لوگوں کو بھوکا رکھنا، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشددجس کی دو سال سے زائد عرصے تک سوشل میڈیا پر لائیو سٹریمنگ ہوتی رہی نے ان تبدیلیوں کو بہت تیز کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل مخالف جذبات کی ایک ایسی لہر پیدا ہوئی جو جدید امریکی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔ اگر واقعی ایران پر امریکہ واسرائیل کی مشترکہ جنگ اس خاص اتحاد کا نقطہ عروج ہے، تو اس کے بعد زوال ہی آئے گا۔
اگرچہ وہ امریکی صدر ہیری ٹرومین تھے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا، لیکن ان کے جانشین ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور اسرائیل کے ساتھ انتہائی سرد مہری کا مظاہرہ کرتے تھے، کیونکہ وہ سرد جنگ کے ابتدائی دور میں امریکہ کی حکمتِ عملی کا توازن خراب کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ جان ایف کینیڈی نے آئزن ہاور کی اسلحہ کی پابندی کو توڑا اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسرائیل کو امریکی اسلحہ فراہم کیا۔ رچرڈ نکسن، یا یوں کہیے کہ ان کے مشیر ہنری کسنجر نے 1973 میں عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کو شکست سے بچانے کے لیے فوجی امداد کی ایک اہم فضائی ترسیل کا انتظام کیا۔ اس کے باوجود، اس تعلقات کی حدود تھیں۔ جمی کارٹر، رونالڈ ریگن، اور جارج ایچ ڈبلیو بش سبھی جانتے تھے کہ اسرائیل کے رہنماؤں کو کب اور کیسے ناں کہنی ہے۔کبھی کبھی ایسے الفاظ میں جو آج حیران کن ہوں، اور کبھی مادی نتائج کی دھمکیوں کے ساتھ اور انہیں اس پرواسرائیل لابی کا کوئی خوف نہیں تھا، جو 1990 کے دہائی کے وسط تک حاصل ہونے والی طاقت کے مقابلے میں اس وقت کافی کمزور تھی۔
سرد جنگ کے خاتمے نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا۔ اب یہ تعلقات عالمی طاقت کے توازن پر مبنی امریکہ کی وسیع تر حکمتِ عملی کے تابع نہیں رہے تھے۔ یوں ایک ایسا رشتہ قائم ہوا جسے بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اسٹریٹجک مفادات کی برادری کہتے ہیں۔ اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی قیادت میں قائم نئے بین الاقوامی نظام کے نفاذ کنندہ کا کردار سنبھال لیا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، امریکہ اور اسرائیل کے مفادات مزید یکجا ہوتے دکھائی دئیے۔ امریکی میڈیا نے بھی انہی باتوں کو دہرایا، امریکہ اور اسرائیل کے رہنماؤں نے اپنے ممالک کے مفادات کو ایک جیسا اور اپنے دشمنوں کوخواہ وہ اسامہ بن لادن اور القائدہ ہوں یا یاسر عرفات اور پی ایل اوایک ہی انتہا پسند اور دہشت گرد سکے کے دو رخ قرار دیا۔
اسٹریٹجک مفادات کے اس اشتراک کو مشترکہ اقدار کے ایک وسیع تاثر سے مزید تقویت ملی۔ جس وقت امریکہ نے بیرونِ ملک جمہوریت کے فروغ کا آغاز کیا، اسرائیلی رہنماؤں نے اس علاقے کی واحد جمہوری ریاست کے طور پر اپنے ملک کی یگانہ حیثیت کی بات کی۔ جن لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تہذیبی تناظر میں دیکھا، ان کے لیے اسرائیل نہ صرف ایک اتحاد تھا بلکہ وہ نہایت اہم خطہ تھا جو یہود و نصاریٰ پر مشتمل مغرب اور اس کے اسلام پسند دشمنوں کے درمیان جدوجہد میں صفِ اول کا محافظ تھا۔ دوسری طرف، امریکی لبرلز اسرائیل کو آمریت پر مبنی عرب حکومتوں، قدامت پسند مذہبی حکومتوں اور اسلام پسند جنگجوؤں کے سیاہ سمندر کے درمیان ایک مثالی اور کھلے معاشرے کے طور پر دیکھتے تھے۔ بل کلنٹن سے لے کر جارج ڈبلیو بش تک، مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسی پر بالترتیب لبرل مداخلت پسندوں اور ان کے زیادہ سخت گیر نيو کانسرویٹوز کا غلبہ رہا۔
اسرائیل کے وکالتی نظام کے لیے یہ ایک سازگار ماحول تھا۔ AIPAC دونوں پارٹیوں میں اسرائیل کے لیے تقریباً متفقہ حمایت حاصل کر سکتا تھا، جبکہ اس سے وابستہ تھنک ٹینکس ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں انتظامیہ میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے تھے۔ دوسری طرف، فلسطینی حقوق کے حامیوں کے پاس ایسا کوئی نظام موجود نہیں تھا، اور آج کے برعکس، اس وقت مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں بہت کم فلسطینی مصنفین کی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ اس دوران، اسرائیل لابی کی طاقت کے بارے میں شکایات زیادہ تر سازشی نظریات کے حاشیے تک محدود تھیں، جہاں انتہائی بائیں بازو کی حدود انتہائی دائیں بازو سے ملتی تھیں۔ اور چونکہ ہولوکاسٹ کی یادگار کی ثقافت اپنے عروج پر تھی—1993 میں امریکی ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کا افتتاح ہوا تھا۔سام دشمنی کا ایک الزام ہی کسی کا بھی کیریئر ختم کرنے کے لیے کافی تھا۔
جاری ہے ۔