فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مصرکی عیسائی برادری ماضی میں عیسائیوں کی القدس آمد کے خلاف رہی ہے مگر حال ہی میں پوپ شنودہ نے القدس کے سفر پر عائد پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے عیسائیوں کو القدس کے سفر کی اجازت دے دی ہے۔
عیسائی پادری آنجہانی کیریلس ششم نے سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ اور القدس پر اسرائیلی قبضے کے فوری بعد حکم جاری کیا تھا کہ جب تک القدس پر اسرائیل کا غیرقانونی تسلط موجود ہے تب تک عیسائی القدس میں داخل نہیں ہوسکتے۔ سنہ 1977ء مین کیریلس ششم نے مصر کے اس وقت کے صدر انور سادات کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ دوستانہ مراسم کی راہ ہموار کی اور سنہ 1980 میں القدس چرچ سوسائٹی نے ایک فیصلے میں خدشہ ظاہر کیا کہ پوپ کیریلس ششم عیسائیوں کی القدس میں داخلے پر عائد پابندی کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خاص طور پر جب اسرائیل اور مصر کےدرمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے تو عیسائی برادری کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب مصر کے عیسائی بھی اسرائیل کے ساتھ مراسم قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔
حال ہی میں مصری عیسائی پادری پوپ تواضروس دم نے بھی پہلے تو عیسائیوں کے القدس میں داخلے پر پابندی کی حمایت کی مگر حال ہی میں انہوں نے بھی عیسائیوں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بیت المقدس کے سفر کی اجازت دے دی ہے۔
دو سال سے مصر کی فضائی کمپنیوں کی جانب سے بھی القدس کے سفر کے لیے مہمات چلائی جاتی رہی ہیں۔ مصر کے مرکزی گرجا گھروں میں بھی ایک عشرے سے ایک اشتہار موجود ہے جس میں القدس کے سفر کی اجازت موجود ہے۔
سنہ 1967ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مصر کے قبطی عیسائی پادریوں نے ملک میں بسنے والے عیسائیوں کو بغیر کسی شرط کے بیت المقدس کے سفر کی اجازت دی ہے۔ مصر سے آنے والے عیسائی اسرائیل کے بن گوریون ہوائی اڈے اور وہاں سے بیت المقدس بسوں کے ذریعے سفر کریں گے۔ اس اقدام کو مذہبی رسومات کا نام دیا گیا ہے مگر حقیقی معنوں میں اس سارے کھیل تماشے کے پس پردہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے امریکی۔ صیہونی سازشوں کی حمایت کرنا ہے۔
