غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے فلسطین میں ’یوم الارض‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے عالمی رہنماؤں سے رابطےÂ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سوموار کو حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ نے امیر قطرتمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔اسماعیل ھنیہ کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے امیر سے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی حالیہ ریاستی دہشت گردی پر بات چیت کی۔
اسماعیل ھنیہ نے غزہ میں ’یوم الارض‘ ریلیوں پر صیہونی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں، غزہ کی ناکہ بندی اور دیگر صیہونی جرائم کے حوالے سے الشیخ تمیم حمد بن آل ثامی کو آگاہ کیا۔
حماس رہنما نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن اور قتل عام کی روک تھام کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کی قرارداد ویٹو کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اورکہا کہ صیہونی ریاستÂ اور امریکا مل کر فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا استحصال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امیر قطر نے بھی صیہونی فوج کی جانب سے غزہ میں پُرامن ریلیوں پر فائرنگ اور وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال قابل مذمت اقدام ہے اور وحشیانہ قتل عام کی جامع تحقیقات ہونی چاہئیں۔
خیال رہے کہ 30 مارچ کو فلسطین میں ’یوم الارض‘ کی مناسبت سے احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے یوم الارض پر مقبوضہ فلسطین کی طرف مارچ کیا تو اسرائیلی فوج ان پر براہ راست فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 18 فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
