مقبوضہ بیت المقدس ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم’بتسلیم‘ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ریاست اوسلو معاہدے کے تحت قائم کیے گئے ’سیکٹر C‘Â میں واقع 200 فلسطینی بستیوں سے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کو بے دخل کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں بتایا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور علاقہ بدری کا جنگی جرم ایک عرصے سے جاری ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی ان گھروں اور قصبوں سے جبری بے دخلی میں اسرائیلی فوج کا بھی ہاتھ ہے۔ جبری بے دخل کیے گئے فلسطینیوں میں بیشتر انتہائی غریب اور مفلس شہری ہیں جو کسی دوسری جگہ زمین کی خریداری یا گھروں کی تعمیر کی استطاعت نہیں رکھتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوج سیکٹر’سی‘ میں فلسطینیوں کو کچلنے، دباؤ میں لانے اور فلسطینی علاقوں کو مقامی آبادی سے خالی کرنے کے لیےÂ طاقت کا بے تحاشا استعمال کر رہی ہے۔
’بتسلیم‘ کی رپورٹ کے مطابق ’سیکٹر C‘ کے 200 قصبوں میں سے ہزاروں فلسطینیوں کے دخل کیا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر فلسطینی گلہ بانی اور زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ اسرائیلی فوج نہ صرف انہیں وہاں سے طاقت کے ذریعے بے دخل کررہی ہے بلکہ تشدد، لوٹ مار اور غاصبانہ قبضے کررہی ہے۔
جنوبی الخلیل کے پہاڑی علاقوں میں سنہ 1999ء میں ایک ہزار فلسطینیوں کو جبرا بے دخل کیا گیا۔ ان میں سے نصف سے زائد کم عمر بچے تھے۔
معالیہ ادومیم صیہونی کالونی سے ہزاروں فلسیطنیوں کو بے دخل کیا گیا۔ ان میں زیادہ تر جھالین قبیلے کے لوگ شامل تھے۔ سیکٹر سی میں 3000 فلسطینیوں کا وجود خطرے میں ہے۔ ان میں سے 1440 فلسطینیوں کو سیکٹر E1 میں رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔
وادی اردن کے علاقوں سے 2700 فلسطینیوں کو جبرا بے دخل کیا گیا۔
