فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کویتی پارلیمنٹ کے اسپیکرمرزوق الغانم نے ان خیالات کا اظہار جنیوا میں بین الاقوامی پارلیمانی اتحاد کے اجلاس سے خطاب میں کیا۔ جب اسرائیلی وفد نے عالمی پارلیمان کے ہنگامی شق پر بات کرنا چاہی تو مرزوق الغانم نے کہا کہ صیہونی ریاست کو عالمی اداروں میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جو ملک اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرنے میں سب سے آگے ہو وہ بھلا عالمی ادارے کے فیصلوں پر کس طرح رائے دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سنہ 1948ء کے بعد فلسطین میں اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھا ہوا ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ قتل عام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کو نہتا کرکے انہیں مارا جا رہا ہے۔ فلسطین میں صیہونی ریاست کے مظالم روکنے کے لیے پہلی قرارداد 1948ء میں پاس کی گئی۔ یہ قرارداد 194Â کے عنوان سے مشہور ہوئی۔ صیہونی ریاست 30 عالمی قراردادوں کو پامال کرنے کی مجرمانہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔
کویتی سیاست دان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں 2Â کروڑ 20 لاکھ کل پناہ گزین ہیں جن میں 5 لاکھ 50 ہزار فلسطینی ہیں۔ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو سب سے زیادہ تاراج کیا گیا۔
مرزق الغانم نے کہا کہ تاریخ کا بے رحم پہیہ صیہونی ریاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بیداری اور زندہ ضمیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کریں۔
