مقبوضہ بیت المقدس ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی عدالت کی جانب سے بزرگ فلسطینی رہنما الشیخ رائد صلاح کی رہائی کا اعلان کرنے کے باوجود ان کی رہائی میں مسلسل ٹال مٹول جاری ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حال ہی میں اسرائیل کی مرکزی عدالت نے اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح کو کڑی شرائط کے تحت رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر بعد میں ان کی رہائی مؤخر کردی گئی تھی۔الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے خبر رساں ادارے’ناطولیہ‘ کو بتایا کہ اسرائیلی عدالت نے الشیخ رائد صلاح کی رہائی آئندہ بدھ تک ملتوی کردی ہے۔ عدالت کی طرف سے الشیخ صلاح کی رہائی کا فیصلہ مؤخر کرنے کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
الشیخ رائد صلاح کے وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ عدالت نے الشیخ رائد صلاح کو اس شرط پر رہا کرنے کی اجازت دی ہے کہ وہ شمالی فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقے کفر کنا میں اپنے گھر سے باہر نہیں جائیں گے۔ تاہم انہیں ام الفحم میں اپنے گھر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
وکلاء کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتظامیہ کفر کنا میں الشیخ رائد صلاح کی رہائش گاہ کے باہر سخت حفاظتی انتظامات کرنے اور الیکٹرانک باڑ لگانے کی تیاری کررہی ہے۔
’قدس پریس‘ سے بات کرتے ہوئے زبارقہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجی افسران الشیخ رائد صلاح کی کڑی شرائط کے تحت رہائی کےحوالے سے پانی تجاویز پانچ روز میں پیش کریں گے۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کو 26 مارچ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقعے پر ان کے وکلاء نے اپنے موکل کی رہائی کی درخواست دی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔
عدالت نے الشیخ رائد صلاح کی رہائی کے بعد شمالی فلسطین کے تین قصبوں کفر کنا، طرعان اور کفر مندا میں سے کسی ایک جگہ گھر پر نظر بند رکھنے کی تجویز سے اتفاق کیا تھا۔
قبل ازیں اسرائیلی پولیس الشیخ رائد صلاح کے خلاف اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کرچکی ہے جس میں انہیں مزید چھ ماہ کے لیے قید تنہائی میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح غیرمعمولی طور پر فلسطینیوں میں مقبول ہیں۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ الشیخ رائد صلاح اسرائیل کے خلاف نفرت پھیلانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ ممنوعہ تنظیموں اور خلاف قانون اداروںÂ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ ان کا اشارہ اسلامی تحریک کی طرف تھا۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کو اسرائیلی فوج نے اگست 2017ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر مسجد اقصیٰ کے دفاع ، القدس کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
