فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کل ہفتے کوانسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران فلسطینیوں کے بنیادی حقوق بالخصوص حق خود ارادیت کی حمایت اور اسرائیلی ریاست کے مظالم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ ان قراردادوں میں اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ فلسطین میں صیہونی بستیوں کی تعمیر روک کر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں حائل دیگر تمام رکاوٹیں بھی دور کرے۔
انسانی حقوق کونسل کی ان قراردادوں کے رد عمل میں اسرائیلی قیادت نے سخت برہمی اور ناراضی کااظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے انسانی حقوق کونسل پر اسرائیلی ریاست کی طرف داری کا الزام عائد کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اس مقام تک پہنچ گئی کہ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرنے لگی ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کونسل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے وہاں سے اپنا مندوب واپس بلائے۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کونسل میں اسرائیل کو اپنی حمایت میں کسی تلاش کی ضرورت نہیں۔ انسانی حقوق کونسل ماضی میں بھی اسرائیل کے خلاف سرگرم رہی ہے۔ جب میں اسرائیل کا وزیرخارجہ تھا تب بھی میں نے انسانی حقوق کونسل کے بائیکاٹ کی سفارش کی تھی۔
